شیخوپورہ میں ایک پولیس اہلکار کے بس کنڈیکٹر کے ساتھ غیر اخلاقی رویے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہے جس نے عوام اور صارفین میں شدید غصے اور سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ویڈیو میں اہلکار کو کرایہ مانگنے پر کنڈیکٹر سے تلخ رویہ اختیار کرتے ہوئے سنا جا سکتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ میں دس گھنٹے ڈیوٹی کر کے آیا ہوں، میں نے اس قوم پر احسان کیا ہے، تم نے مجھ سے کرایہ مانگنے کی ہمت کیسے کی؟
ویڈیو اور عوامی ردعمل
ویڈیو سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے پولیس اہلکار کے رویے کی سخت مذمت کی ہے۔ عوامی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ اگر اہلکار دن بھر کی محنت کے بعد تنخواہ وصول کر رہا ہے تو پھر اس طرح کا رویہ کیوں اختیار کیا گیا۔
سوشل میڈیا پر متعدد صارفین نے اس عمل کو انسانی وقار کی توہین قرار دیا اور کہا کہ اس طرح کے رویے معاشرے میں پولیس کے لیے اعتماد کم کرتے ہیں۔
کچھ صارفین جیسے انشال راؤ نے اہلکار کے رویے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی جرم نہیں اور سرکاری ملازمین یا طلباء کے لیے کرایہ کی رعایت ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہاکہ اگر ویڈیو بنانی تھی تو اس پر ٹرانسپورٹ مافیا کو نشانہ بنایا جاتا لیکن موجودہ معاملے میں کسی بڑے نقصان کا امکان نہیں ہے۔
عوامی مطالبات اور قانونی پہلو
سوشل میڈیا صارفین نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے اپیل کی ہے کہ پولیس اہلکار کے خلاف فوری اور مناسب قانونی کارروائی کی جائے۔ عوام کا کہنا ہے کہ ایسے رویوں کو روکنے کے لیے نہ صرف متعلقہ اہلکار کے رویے کی تحقیقات ہونی چاہیے بلکہ پولیس اہلکاروں کی تربیت اور نگرانی میں بہتری لانا ضروری ہے تاکہ مستقبل میں کسی بھی شہری یا کنڈیکٹر کو ہراساں نہ کیا جا سکے۔
عوامی حلقوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگرچہ پولیس اہلکار دن بھر کی محنت کے بعد تھکا ہوا ہو سکتا ہے لیکن عام شہری یا بس کنڈیکٹر کے ساتھ اس طرح کا رویہ کسی طور قابل قبول نہیں۔ ایسے واقعات سے پولیس کے رویے پر عوامی اعتماد متاثر ہوتا ہے اور معاشرتی نظم و ضبط کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








