مرحوم ڈاکٹر عامر لیاقت کی زندگی پر ایک نظر

تازہ ترین

تازہ ترین

مرحوم ڈاکٹر عامر لیاقت کی زندگی پر ایک نظر
مرحوم ڈاکٹر عامر لیاقت کی زندگی پر ایک نظر

پاکستانی سیاستدان، ٹی وی ہوسٹ، شاعر اور مذہبی شخصیت ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے 5 جولائی 1971 کو کراچی میں آنکھ کھولی۔ زمانہ طالب علمی سے ہی ان  کہ پاس لفظوں کےذخائر تھے جس سے انہیں خوب ترقی حاصل ہوئی۔

پروگرام عالمِ آن لائن سے شہرت پانے والے ڈاکٹر عامر لیاقت حسین بیس سال سے  میڈیا پر چھائے ہوئے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ عامر لیاقت کو دنیا کی 500 با اثر مسلم شخصیات میں شامل ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔

 معروف ٹی وی ہوسٹ نے پاکستان میں رمضان ٹرانسمیشن کی بنیاد رکھی۔ عامر لیاقت کتابوں کے مصنف بھی تھے، ان کی 5 کتابیں ان کی پہچان بنیں۔

عامر لیاقت حسین نے اپنی عملی زندگی کا آغازمتحدہ قومی مومنٹ سے کیا۔ ڈاکٹر عامر لیاقت ایم کیو ایم کہ جلسوں میں اسٹیج سیکرٹری کہ فرائض انجام دیتے رہے۔عامر لیاقت نے 2002 میں قومی انتخابات میں حصہ لیا اور متحدہ قومی مومنٹ کی وابستگی سے قومی اسمبلی میں نشست بھی حاصل کی۔

2004 سے 2007 تک وزیر مملکت برائے مذہبی امور کے منصب پر فائز رہے۔ عامر لیاقت نے مذہبی امور کے وزیر کے طور پر مئی 2005 میں خود کش حملوں کے خلاف مذہبی فتویٰ جاری کرنے کے لیے پاکستان سے 58 مذہبی علما کو قائل بھی کیا۔ عامر لیاقت  نے 2007 میں سیاست کو خیرآباد کہہ دیا۔

 2018 میں ایک بار پھر سیاست میں قدم رکھا اور پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی۔ 2018 کے الیکشن میں دوبارہ ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔  4 اکتوبر 2021 کو قومی اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہوگئے اور پاکستان تحریک انصاف چھوڑدی۔

عامر لیاقت حسین نے پہلی شادی سیدہ بشریٰ اقبال سے کی جن سے ان کے دو بچے ہیں۔ بشریٰ اور عامر لیاقت میں 2020 میں علیحدگی ہوگئی۔ دوسری شادی جون 2018 میں سیدہ طوبیٰ سے کی۔ جو کہ 2022 کے آغاز تک قائم رہی۔ تیسری  شادی فروری 2022 میں اٹھارہ سالہ سیدہ دانیہ شاہ سے کی۔ 

9 جون کو عامر لیاقت کی طبیعت خراب ہوئی انہیں اسپتال منتقل کردیا گیا جس کے بعد ڈاکٹرز نے ان کے انتقال کی تصدیق کردی۔ 

 

 

 

Related Posts