بنگلا دیش کے انٹرنیشنل کرائمز ٹربیونل نے سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کو انسانیت کے خلاف جرائم کا مجرم قرار دیتے ہوئے سزائے موت سنادی۔جسٹس محمد غلام مرتضیٰ کی سربراہی میں تین رکنی ٹربیونل نے کی، مقدمات کی سماعت کے بعد یہ موت کی سزا کا فیصلہ سنایا گیا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق، شیخ حسینہ پر 2024 میں طلبہ تحریک کے خلاف طاقت کے استعمال اور بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کا الزام تھا۔ اس مقدمے میں استغاثہ نے ان کے لیے سزائے موت کی درخواست کی تھی۔
ملک میں عدالتی فیصلے کے دوران سخت سکیورٹی کے انتظامات کیے گئے۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں مظاہروں کے دوران تقریباً 1400 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
شیخ حسینہ واجد کون ہیں؟
شیخ حسینہ بنگلہ دیش کی معروف سیاستدان اور بنگلہ دیش کے بانی اور پہلے صدر شیخ مجیب الرحمان کی صاحبزادی ہیں۔ وہ جون 1996 سے جولائی 2001 اور جنوری 2009 سے اگست 2024 تک بنگلہ دیش کی وزیر اعظم رہ چکی ہیں اور 19 سال سے زائد عرصے تک ملک کی قیادت کر کے تاریخ میں سب سے طویل عرصے تک وزیر اعظم رہنے والی خاتون بنیں۔
حسینہ 1981 سے عوامی لیگ کی سربراہ ہیں اور کئی بار قائد حزب اختلاف بھی رہ چکی ہیں۔ ان کی قیادت میں بنگلہ دیش نے معاشی ترقی اور غربت میں کمی دیکھی۔ 2017 میں روہنگیا مہاجرین کو پناہ دینے پر انہیں عالمی سطح پر سراہا گیا۔
شیخ حسینہ کا شمار دنیا کی طاقتور خواتین میں ہوتا ہے اور ان کی سب سے بڑی سیاسی حریف خالدہ ضیاء ہیں، جس کی وجہ سے ان کی سیاسی دشمنی “بیگمات کی جنگ” کے نام سے جانی جاتی ہے۔
حسینہ کی ابتدائی زندگی تنگی پارہ میں گزری جہاں وہ اپنے والد کی سیاسی مصروفیات کے باوجود تعلیم حاصل کرتی رہیں۔ انہوں نے ایڈن کالج اور ڈھاکہ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی اور 1967 میں ایم اے واجد میاں سے شادی کی۔
1975 میں بنگلہ دیشی بغاوت کے دوران ان کے شوہر، بچے اور خاندان کے دیگر افراد قتل ہو گئے لیکن وہ اور ان کی بہن یورپ میں محفوظ تھیں۔ 1981 میں عوامی لیگ کی سربراہ منتخب ہونے کے بعد حسینہ وطن واپس آئیں اور سیاست میں واپس آئیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








