افغان طالبان نے ایک عسکری پریڈ کے دوران پاکستان کے دو بڑے شہروں، لاہور اور اسلام آباد، پر حملے کی دھمکی دی ہے۔
اس موقع پر درجنوں طالبان نے پاکستان کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہ لاہور میں سفید جھنڈا لہرا کر اسلام آباد کو جلا دیں گے۔ یہ ویڈیو تیزی سے سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے اور پاکستان کے سیکورٹی اداروں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق طالبان نے تقریب کے دوران ایک نعتیہ ترانہ پڑھا اور پاکستان کے شہروں پر قبضے کی بات کی۔ رپورٹ کے مطابق افغان طالبان نے یہ بیانات ایک نام نہاد فوجی پریڈ کے دوران دیے جہاں ان کے نئے جنگجوؤں نے عسکری طاقت کا مظاہرہ کیا۔
پاکستان کی جانب سے متعدد بار افغان طالبان حکومت سے سرحدی دہشت گردی کے خلاف تعاون کی اپیل کی جا چکی ہے، مگر طالبان حکام کی جانب سے کوئی عملی پیشرفت نہیں دکھائی گئی۔
اس کے برعکس، سرحد پار موجود عسکری گروہوں کو پناہ دی جا رہی ہے جو پاکستان کے اندر حملوں میں ملوث پائے گئے ہیں۔
دوسری جانب دوحہ اور استنبول میں ہونے والے مذاکرات کے دوران بھی افغان عہدیداروں نے پاکستان مخالف بیانات دینے کا سلسلہ جاری رکھا، جس پر وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کابل سے آنے والے پراپیگنڈا اور جھوٹے دعوؤں کی سخت مذمت کی۔
باوجود اس کے کہ دونوں ممالک کے درمیان سرحدی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، پاکستان اور افغانستان نے فائر بندی میں توسیع پر اتفاق کیا ہے۔
استنبول میں ہونے والے مذاکرات کی ناکامی کے بعد ترکیہ کی ثالثی سے ایک نیا معاہدہ طے پایا جس کے مطابق اگلے مرحلے کے مذاکرات 6 نومبر کو ہوں گے۔
Taliban Threatens Pakistan: “We Will Raise Our White Flag in Lahore — and Burn Islamabad”
During a so-called military parade, the Afghan Taliban issued a warning to Pakistan, reciting a poem that declared they would “raise the white flag in Lahore and burn Islamabad.#aamajnews pic.twitter.com/UzRVAWERqo
— Aamaj News English (@aamajnews_EN) November 2, 2025
ترکیہ کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ جنگ بندی کے نفاذ کے لیے ایک مانیٹرنگ اور ویریفکیشن میکانزم قائم کیا جائے گا تاکہ معاہدے پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔ کسی بھی خلاف ورزی پر دونوں ممالک کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
ترکیہ اور قطر نے دونوں ممالک کے درمیان مذاکراتی عمل کو سراہا اور کہا کہ پاکستان اور افغانستان کا بات چیت کے ذریعے امن کی راہ اختیار کرنا خطے میں پائیدار استحکام کے لیے اہم قدم ہے۔
وزیرِ دفاع خواجہ آصف کے مطابق افغان وفد نے مذاکرات کے دوران متضاد بیانات دیے اور پاکستان میں سرحد پار آنے والے مسلح افراد کو پاکستانی پناہ گزین قرار دیا۔
خواجہ آصف نے اس بیان پر شدید ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ یہ نام نہاد پناہ گزین جدید اسلحہ سے لیس ہوں؟ وہ کسی باقاعدہ گاڑیوں میں نہیں بلکہ پہاڑی راستوں سے چپکے چپکے داخل ہوتے ہیں۔ یہ خود افغان حکومت کی بد نیتی کو ظاہر کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے امن کے لیے ہر ممکن کوشش کی مگر کابل کی حکومت اپنے وعدوں سے انحراف کرتی رہی۔
دوسری جانب طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک بیان میں کہا کہ افغانستان تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ برادرانہ تعلقات چاہتا ہے اور کسی کے داخلی معاملات میں مداخلت کا قائل نہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








