افغانستان کی ٹاپ فحش اداکارہ یاسمینہ علی نے کیریئر کے آغاز میں قتل کی کوشش کا انکشاف کرتے ہوئے اپنی شادی شدہ زندگی کے حوالے سے بھی اہم انکشافات کئے ہیں۔
28 سالہ اداکارہ یاسمینہ علی نے نیویارک پوسٹ سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ والد اور کزن کی جانب سے قتل کرنے کی مبینہ کوشش کے باوجودوہ اپنے پیشے کی وجہ سے خود بااختیار محسوس کرتی ہیں جو نہ صرف اسے جسمانی آزادی دیتا ہے بلکہ مالیاتی بھی طور بھی مضبوط بناتا ہے۔
یاسمینہ علی کا کہنا ہے کہ جب میں نے پہلی بار اس انڈسٹری میں کام کرنا شروع کیا تو یہ دیکھ کر حیرانی ہوئی کہ خواتین کو مرد ساتھی اداکاروں کے مقابلے میں کتنی اچھی تنخواہ ملتی ہے کیونکہ اکثر اوقات دوسری صنعتوں میں اعلیٰ قابلیت اور تجربات کی حامل خواتین کو ان کے مرد ساتھیوں کی طرح تنخواہ یا عزت نہیں ملتی۔
ان کا کہنا ہے کہ میرا پورن اسٹار بننے کا سفر آسان نہیں تھا، میرا تعلق ایک مسلمان گھرانے سے تھا اور2000 میں برطانیہ ہجرت کرنے کے باوجود آزادانہ زندگی گزارنے کی اجازت نہیں تھی۔
یاسمینہ علی نے بتایا کہ میں نے کم عمری میں اپنا گھر چھوڑدیا تھا اور ایک یہودی فوٹو گرافر سے شادی کی اور اسلام ترک کرکے یہودی مذہب اختیار کیا اور اب ان کا نام خدیجہ کوہان ہے۔