غزہ میں کشت و خون کے 5 ماہ بعد سلامتی کونسل میں پہلی بار جنگ بندی کی قرارداد منظور

تازہ ترین

تازہ ترین

فوٹو پریس ٹی وی

 اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے جنگ کے پانچ ماہ بعد آخرکار غزہ میں فوری جنگ بندی کی قرار داد منظور کرلی۔

غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کی قرارداد پر رائے شماری کے لیے سلامتی کونسل کا اجلاس پیر کے دن ہوا جس میں قرارداد ویٹو کی نذر ہوئے بغیر غالب اکثریت سے منظور کرلی گئی۔

فوری جنگ بندی کی قرارداد الجزائر کی قیادت میں سلامتی کونسل کے 10 رکن ممالک نے پیش کی۔

قرارداد پیش کرنے والے ممالک میں الجزائر، جاپان، ایکواڈور ، سوئٹزرلینڈ، جنوبی کوریا، مالٹا اور دیگر ممالک شامل تھے۔

سلامتی کونسل کے15میں سے 14 ارکان نےقرارداد کی حمایت کی جبکہ امریکا نے قرارداد پر ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔

خیال رہے کہ اس سے قبل بھی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں غزہ میں جنگ کے حوالے سے 4 قراردادیں پیش کی جا چکی ہیں، تاہم ان میں سے کوئی بھی قرارداد منظور نہیں ہوسکی۔

اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتریس نے قرارداد کی منظوری پر ردعمل دیتے ہوئے فوری جنگ بندی اور یرغمالیوں کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اس قرارداد کو ضرور نافذ ہونا چاہیے۔

غزہ میں 7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں اب تک 32 ہزار سے زائد فلسطینی شہید جبکہ 74 ہزار سے زائد فلسطینی زخمی ہوچکے ہیں۔

Related Posts