پاکستان پر ناکام جارحیت کے ڈاندے ملا متقی کے دورہ بھارت سے ملنے اور پاکستان کی جانب سے دندان شکن جواب کے بعد طالبان حکومت کی جانب سے سعودیہ اور قطر سے امن و صلح کرانے کی اپیلوں کا انکشاف ہوا ہے۔
سینئر صحافی نے اپنے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ متقی کی بھارت کے مشیر قومی سلامتی اجیت دول سے رابطے کے بعد متقی نے نئی دلی سے اپنی حکومت پر کابل دھماکوں کے جواز میں پاکستان پر حملوں کیلئے دباؤ ڈالا، جس پر افغان افواج نے اتوار کی رات جارحیت کا ارتکاب کیا۔
ذرائع کے مطابق تاہم پاکستان کے دندان شکن جواب کے بعد کابل نے پہلے سعودی عرب سے جنگ بندی کرانے کی درخواست کی اور کہا کہ دو بھائیوں میں لڑائی ہوجائے تو تیسرے بھائی کو ثالثی کرا دینی چاہئے جس پر سعودیہ نے صاف انکار کیا اور واضح کیا کہ ہماری طرف سے آپ کو سمجھانے کی بارہا کوششیں کی گئیں مگر آپ نے ہماری بات نہیں سنی، اب بھگتو۔
ذرائع کے مطابق ایسا ہی جواب قطر سے بھی رابطہ کرنے پر ملا، جس کے بعد پاکستانی صحافی احسان کوہاٹی کے دعوے کے مطابق طالبان کے ایک بڑے رہنما نے کراچی میں کچھ بزرگ علماء کرام سے بیچ میں پڑنے کی درخواست کی، تاہم ان علما نے بھی ہاتھ اٹھالئے، جس کے بعد طالبان قیادت کو لینے کے دینے پڑ گئے ہیں۔
دریں اثنا حکام کے مطابق پاک فضائیہ نے اسپین بولدک میں دہشت گرد تنظیم بی ایل اے کا ایک کیمپ بھی تباہ کر دیا ہے، تباہ ہونے والے عصمت اللہ کرار نامی اس کیمپ سے بھی ٹی ٹی پی کے تانے بانے ملتے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








