ساٹھ سال بعد اہم یورپی ریاست الحاد سے اسلام کی طرف واپس، ایمان افروز داستان

تازہ ترین

تازہ ترین

البانیہ کے دارالحکومت تیرانا کی ایک مسجد
البانیہ کے دارالحکومت تیرانا کی ایک مسجد، فائل فوٹو

غیرمسلم افراد اور معروف شخصیات کے دین اسلام قبول کرنے کی خبریں آئے دن سامنے آتی ہیں، تاہم اس بار ایک پوری ریاست کے الحاد سے واپس اسلام کی طرف پلٹنے کی مسرت آمیز خبر سامنے آئی ہے۔

ہم بات کر رہے ہیں یورپی ملک البانیا کی، جو پہلے ایک مسلم ریاست تھی، مگر ساٹھ کی دہائی میں کمیونسٹ بلاک میں شامل ہونے کے بعد البانیا نے علانیہ طور پر دین اسلام سے دوری اختیار کرتے ہوئے الحاد اپنا لیا تھا۔ اب البانیہ کی الحاد سے اسلام کی طرف واپسی کی حیران کن داستان سامنے آگئی ہے۔

رپورٹس کے مطابق البانیہ کے دارالحکومت تیرانا میں عیدالفطر کے موقع پر لاکھوں افراد نے تاریخی اسکندر بیگ اسکوائر میں جمع ہو کر نماز عید ادا کی، جس نے ماضی کے ایک تاریک دور کی یاد تازہ کر دی۔

یہ وہی ملک ہے جسے 1967 میں انور خوجہ کی قیادت میں دنیا کی پہلی “ملحد ریاست” قرار دیا گیا تھا۔ اس دور میں مساجد اور گرجا گھر بند کر دیے گئے، مذہبی سرگرمیوں پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی اور عقیدے کی بنیاد پر لوگوں کو نشانہ بنایا گیا۔

تاہم وقت نے کروٹ لی، اشتراکی نظام کا خاتمہ ہوا اور وہی سرزمین جہاں مذہب کو مٹانے کی کوشش کی گئی تھی، آج پھر سے اسلامی شعائر سے گونج رہی ہے۔ مساجد آباد ہیں، اذانیں بلند ہو رہی ہیں اور بڑی تعداد میں لوگ کھلے میدانوں میں عبادات ادا کر رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق البانیا کی یہ تبدیلی اس بات کی واضح مثال ہے کہ ایمان کو طاقت یا جبر کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تیرانا میں عید کے موقع پر ہونے والا یہ اجتماع محض ایک مذہبی تقریب نہیں بلکہ ایک علامتی پیغام ہے کہ نظریات بدل سکتے ہیں، نظام ختم ہو سکتے ہیں مگر دلوں میں موجود عقیدہ برقرار رہتا ہے۔

Related Posts