اُنیس منٹ کی وائرل ویڈیو کے بعد انٹرنیٹ کی دنیا میں ایک نیا ٹرینڈ سامنے آیا ہے جس میں لوگ “40 منٹ کی وائرل ویڈیو” تلاش کر رہے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسا کوئی مواد موجود نہیں ہے۔ یہ سرچ ٹرم محض کلک بیٹ ہے، جسے اسپیمرز اور جھوٹی معلومات پھیلانے والے استعمال کر رہے ہیں۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس قسم کے لنکس پر کلک کرنا آپ کی ذاتی معلومات کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے اور قانونی مسائل کا بھی سامنا کروا سکتا ہے۔
یہ رجحان دراصل ایک پرانے تنازع سے جڑا ہوا ہے، جب “19 منٹ 34 سیکنڈ کی وائرل ویڈیو” لیک ہونے کا الزام لگا تھا۔ اس دوران لوگوں کی دلچسپی بڑھنے کے بعد نئے اور طویل سرچ الفاظ سامنے آئے، جن میں “40 منٹ کی وائرل ویڈیو” ایک نمایاں مثال بنی۔ اس کا مقصد صرف جھوٹے دعووں اور غیر تصدیق شدہ ویڈیوز کی طرف صارفین کو راغب کرنا تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے لنکس پر کلک کرنے سے آپ جعلی ویب سائٹس پر پہنچ سکتے ہیں، جو آپ کے لاگ ان اور ذاتی معلومات چرانے کے لیے بنائی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ، یہ لنکس مالویئر انسٹال کر سکتے ہیں یا براؤزر کو ہینگ کر کے اشتہارات کے ذریعے پیسہ کما سکتے ہیں۔
بھارتی سائبر ایجنسی ‘این سی بی’ کے افسر امیت یادو کے مطابق، یہ ویڈیوز اکثر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی جاتی ہیں اور ان کے سنگین قانونی نتائج ہو سکتے ہیں۔ یعنی اگر آپ انہیں دیکھیں، محفوظ کریں یا شیئر کریں، تو قانونی کارروائی ہو سکتی ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین کا مشورہ ہے کہ ایسے مشکوک مواد سے مکمل پرہیز کریں۔ اس سے نہ صرف آپ کی ڈیجیٹل سیکیورٹی محفوظ رہے گی بلکہ آپ کسی بھی قانونی پیچیدگی سے بھی بچ جائیں گے۔
آخر میں یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ “40 منٹ کی وائرل ویڈیو” صرف ایک فریب ہے، اور اس پر وقت ضائع کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








