مصنوعی ذہانت آے آئی کی دنیا میں چیٹ بوٹس جیسے چیٹ جی ٹی پی اب صرف سادہ جوابات دینے تک محدود نہیں رہے بلکہ انسان جیسی خصوصیات اور ردعمل بھی دکھانے لگے ہیں جس نے ماہرین کے درمیان بڑے خطرات اور خدشات پیدا کر دیئے ہیں۔
انسان جیسا ردعمل اور خصوصیات
تازہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ جدید اے آئی ماڈلز، خاص طور پرجی پی ٹی 4 جیسی اعلیٰ تربیت یافتہ چیٹ بوٹس، انسانی شخصیت کے نمایاں انداز میں ردعمل دینے لگے ہیں۔ یہ چیٹ بوٹس صرف الفاظ کی نقل نہیں کرتے بلکہ صارفین کے لہجے، انداز اور جذباتی ردعمل کو بھی برقرار رکھتے ہیں۔
چیٹ بوٹس کی شخصیت کو تبدیل کرنا ممکن
کیمبرج یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق چیٹ بوٹس کی شخصیت کو مخصوص انداز میں تبدیل یا ترتیب دینا ممکن ہے۔ ماہرین کے مطابق مخصوص ہدایات (Prompts) کے ذریعے چیٹ بوٹ کو زیادہ خوش مزاج، جذباتی یا دیگر انسانی خصوصیات کے حامل بنایا جا سکتا ہے جس سے سیکیورٹی اور اخلاقی خطرات پیدا ہوسکتے ہیں۔
ممکنہ خطرات
ماہرین کا کہنا ہے کہ جب چیٹ بوٹس انسان جیسا ردعمل دینے لگتے ہیں تو صارفین غلط فہمیوں میں مبتلا ہوسکتے ہیں یا ان پر حد سے زیادہ بھروسہ کرسکتے ہیں۔ ایسے ماڈلز نفسیاتی اور معاشرتی اثرات بھی پیدا کرسکتے ہیں خاص طور پر جب لوگ انہیں حقیقی انسان سمجھ بیٹھیں۔
اے آئی کے استعمال میں توازن ضروری
اگرچہ اے آئی چیٹ بوٹس ٹیکنالوجی، تعلیم اور کاروبار میں سہولت فراہم کرتے ہیں، ماہرین ضابطہ کاری، اخلاقی رہنمائی اور حفاظتی قوانین بنانے پر زور دے رہے ہیں تاکہ غلط استعمال ذہنی اثرات اور جھوٹے اعتماد جیسے مسائل سے بچا جا سکے۔
آج کے اے آئی چیٹ بوٹس اتنے ترقی یافتہ ہوچکے ہیں کہ وہ انسان جیسا ردعمل، لہجہ اور شخصیت دکھا سکتے ہیں لیکن اسی صلاحیت نے سماجی، اخلاقی اور حفاظتی خدشات بھی جنم دیے ہیں جس سے ٹیکنالوجی کے استعمال میں احتیاط اور مضبوط قوانین کی ضرورت بڑھ گئی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








