حیرت انگیز سائنسی نظریات کے بانی البرٹ آئن اسٹائن کا 143واں یومِ پیدائش

تازہ ترین

تازہ ترین

حیرت انگیز سائنسی نظریات کے بانی البرٹ آئن اسٹائن کا 143واں یومِ پیدائش
حیرت انگیز سائنسی نظریات کے بانی البرٹ آئن اسٹائن کا 143واں یومِ پیدائش

سائنس کی دنیا میں حیرت انگیز نظریات کے بانی البرٹ آئن اسٹائن کا 143واں یومِ پیدائش آج منایا جارہا ہے۔ تکنیکی اعتبار سے آئن اسٹائن کو 20ویں صدی کا سب سے بڑا طبیعیات دان (فزیسسٹ) مانا جاتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق البرٹ آئن اسٹائن جرمنی کے شہر اولم میں 14مارچ 1879 کے روز پیدا ہوئے۔ ان کے خاندان کو جرمنی کے خوشحال یہودی النسل خاندانوں میں شمار کیا جاتا تھا۔ ان کے والد نے کاروبار کیا، تاہم زیادہ کامیابی حاصل نہ ہوسکی۔

یہ بھی پڑھیں:

آئن اسٹائن کا نظریہ اضافیت 114 برس کے بعد بلیک ہولز کی مدد سے سچ ثابت 

چھ سال کی عمر میں آئن اسٹائن کو جرمنی کے شہر میونخ لایا گیا۔ 1894 میں جب آئن اسٹائن بورڈنگ کی پڑھائی کر رہے تھے، ان کے والد کاروباری مسائل کے باعث خاندان سمیت اٹلی منتقل ہو گئے اور آئن اسٹائن بھی ان کے پیچھے پیچھے اٹلی جا پہنچے۔

آگے چل کر 1902 میں آئن اسٹائن کے والد کا انتقال ہوگیا تو انہوں نے استاد کی نوکری شروع کردی۔ اس دوران آئن اسٹائن نے فزکس پر بھی سائنسی تحقیق جاری رکھی۔ بیسویں صدی کے آغاز میں ہی آئن اسٹائن کے مقالوں میں حیرت انگیز انکشافات سامنے آئے۔

آئن اسٹائن کے حیرت انگیز سائنسی نظریات میں براؤنی حرکت (براؤنین موشن)، نظریۂ اضافت اور خاص طور پر E = mc2 کی مساوات شامل ہیں جس میں توانائی کو کمیت اور روشنی کی رفتار سے منسلک کیا گیا ہے۔

بعد ازاں 1933 میں آئن اسٹائن نے امریکا پہنچ کر 1940 میں امریکی شہریت حاصل کی اور 18 اپریل 1955 کے روز ہیمولیٹک انیمیا کے باعث بیسویں صدی کے نمایاں طبیعیات دان آئن اسٹائن کا انتقال ہوگیا۔ سائنس کے طلبہ و اساتذہ آج بھی آئن اسٹائن کو یاد کر رہے ہیں۔

Related Posts