عمران ریاض خان کو عدالت میں پیش کیا گیا تاہم اس موقع پر کوئی سرکاری وکیل عدالت میں پیش نہیں ہوا، تفتیشی افیسر نے عمران ریاض کوجوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوانے کی زبانی استدعا کی۔
معزز جج نے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کیا اور پھر اسے جاری کرتے ہوئے عمران ریاض خان کے خلاف ایف آئی اے کی تمام دفعات کو غیر قانونی قرار دیا۔
عدالت نے اٹک سٹی تھانے میں درج مقدمے میں دیگر فوجداری دفعات پر ضمانت کے لئے عمران ریاض کو رات بارہ بجے سے قبل اٹک سول جج کے سامنے دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیا۔
اسپیشل مجسٹریٹ پرویز خان نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے مقدمہ کی ایف آئی آر سے پیکا ایکٹ، ایف آئی اے دفعات خارج کر دی گئیں۔