جمعیت علمائے اسلام صوبہ سندھ کے سیکریٹری جنرل علامہ راشد محمود سومرو نے تیئسرٹاؤن لیاری ایکسپریس وے میں چھ سالہ ننھی کلی شہناز کی درندوں کے ہاتھوں آبرو ریزی اور پھر گٹر میں پھینک کر شہید کردینا انسانی تاریخی کا المناک واقعہ ہے۔
ان خیالات کا اظہار نے معصوم بچی شہناز کے والد پی ایس 122 تئیسرٹاؤن لیاری کے رہائشی محمد یونس سے تعزیتی پیغام میں کیا۔ اس موقع پر پی ڈی ایم سربراہ مولانا فضل الرحمن کے بھائی مولانا عبید الرحمن، محمد اسلم غوری، علامہ سمیع الحق سواتی، مولانا سید حماد اللہ شاہ، مولانا طارق محمود سومرو، مفتی شفیق مہر، یوسف عالم، مفتی امجد اور مولانا انس ودیگر بھی موجود تھے۔
یہ بھی پڑھیں:
بلی والے واقعے پر مفتی مینک نے کیا کہا؟
علامہ راشدمحمود سومرو نے کہا کہ کراچی میں درندگی کے بعد لاڑکانہ کی معصوم بیٹی کی بھی سوختہ لاش ملی ہے، درندگی کے پے درپے واقعات لمحہ فکریہ ہیں۔ کراچی سے لیکر کشمور تک امن وامان کی صورتحال ناگفتہ ہے، راہزنی، قتل و غارت اور اسٹریٹ کرائمز عروج پر ہیں حکومت مجرموں کے سامنے بےبس نظر آرہی ہے۔
کراچی سے کشمور تک روزانہ کی بنیاد پر کئی نوجوانوں کا ڈکیتی اور راہزنی کے وارداتوں کے دوران مجرموں کے ہاتھوں لقمہ اجل بن جانا جنگل کے قانون کے مترادف ہے۔
انہوں نے گورنر سندھ اور وزیراعلی سندھ، آئی جی سندھ، سی سی پی او کراچی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کراچی سمیت سندھ تمام شہروں میں جرائم پر قابو پانے کیلئے ٹھوس اقدامات کریں۔
علامہ راشد محمود سومرو نے پی ایس 122 تائیسر ٹاؤن لیاری کے رہائشی محمد یونس سے بیٹی کی دردناک شہادت پر دلی دکھ اور رنج کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام آپ کے شانہ بشانہ ہے ہم آپ کے دکھ اور غم میں برابر کے شریک ہیں درندوں کو نشانہ عبرت بنانے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








