راولپنڈی:میٹرو پولیٹن کارپوریشن کی مبینہ ملی بھگت سے صادق آباد کے علاقے میں بغیر نقشہ اور غیر قانونی تعمیرات نے ایک بار پھر سر اٹھا لیا، کورونا کی حالیہ وبا اورگزشتہ 4ماہ سے جاری لاک ڈاؤن کے باعث صادق آباد کے علاقے میں متعدد غیر قانونی پلازے اور کثیر المنزلہ عمارتیں تعمیر کرلی گئیں۔
ذرائع کے مطابق لاک ڈاؤن کے دوران صادق آباد میں واقع نجی اسکول کی ایک چین نے اپنی مختلف برانچوں کی غیر قانونی توسیع کے علاوہ حاجی چوک کے قریب واقع کثیر المنزلہ نیا کیمپس بھی تعمیر کرلیا۔
متعلقہ بلڈنگ انسپکٹر کی آشیرباد سے بننے والی اس عمارت کے لئے نہ توٹاؤن پلاننگ کمیٹی سے منطوری لی گئی اور نہ ہی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی اور راولپنڈی تعلیمی بورڈ کے مروجہ قواعد اورعمارت کی تعمیر میں مطلوبہ ضروریات اور سہولیات کو مد نظر نہیں رکھا گیا۔
ذرائع کے مطابق اسی سکول کی انتظامیہ قبل ازیں خرم کالونی چوک کے قریب اپنی ایک عمارت کو غیر قانونی توسیع بھی دے چکی ہے اس ضمن میں ذمہ دارتعلیمی ذرائع کا کہنا ہے کہ میٹرو پولیٹین کارپوریشن کی حدود میں پہلے سے قائم اسکول کے لئے ٹاؤن پلاننگ کمیٹی نئی عمارت کی تعمیر کی منظوری دیتی ہے،ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں ای ڈی او ورکس اور ای ڈی او ایجوکیشن اس کمیٹی کے ممبر ہوتے ہیں جو مروجہ قواعد وضوابط پر پورا اترنے کے بعد سکول کے لئے عمارت کی تعمیر اور نقشے کی منظوری دیتے ہیں۔
کسی بھی اسکول کی عمارت کے لئے بلڈنگ فٹنس سرٹیفکیٹ،ای ڈی او ہیلتھ سے ہائی جینک سرٹیفکیٹ کے علاوہ اسکول کے پلے گراؤنڈ سمیت دیگر بنیادی سہولیات شرائط میں شامل ہیں،اسی طرح تعلیمی بورڈ کے ذرائع کے مطابق بورڈ سے الحاق کے لئے مروجہ شرائط میں پلے گراؤنڈ کی شرط بھی ایک لازمی جزو ہے۔
اس حوالے سے بار بار کوشش کے 9باوجود میٹروپولیٹن افسر (آرکیٹکٹ) علی عمران سے رابطہ نہ ہو سکا،تاہم پرویزنامی متعلقہ بلڈنگ انسپکٹر نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ قواعد کی خلاف ورزی پر ہم نے اسکول انتظامیہ کو نوٹس بھجوایا ہے،لیکن جب ان سے نوٹس کے بارے میں استفسار کیا گیا تو انہوں نے موقف اختیار کیا کہ وہ اپنی کاروائی خود کرتے ہیں۔