راولپنڈی: اڈیالہ جیل میں سلیمان نامی قیدی پر مبینہ تشدد اور رشوت طلب کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔
تفصیلات کے مطابق متاثرہ قیدی سلیمان نے اڈیالہ جیل انتظامیہ کے تشدد کے خلاف معزز جج کو خط لکھ دیا، جس میں اُس نے کہا کہ مجھ سے 25 ہزار روپے رشوت طلب کی گئی، میرے پاس 4 ہزارروپے تھے جو کہ انھیں دے دیے۔
قیدی سلیمان نے خط میں لکھا کہ کچھ دنوں کے بعد مجھ سے دوبارہ 21 ہزار روپے کا تقاضہ کیا گیا جو کہ میرے پاس نہیں تھے لہٰذا میں نے انکار کردیا، مزید رقم ادا نہ کرنے کی وجہ سے مجھے ٹارچر سیل میں رکھا گیا اور بدترین تشدد کا نشانہ بھی بنایا۔
اے این ایف کی اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر کارروائی، بھاری مالیت کی منشیات برآمد
اس خط کے بعد معزز عدالت نے قیدی سلیمان اور ڈپٹی سپرٹنڈنٹ اڈیالہ جیل اکرم کو طلب کرلیا، معزز جج نے قیدی سلیمان کو اپنے نیب کورٹ کو چیک کروایا تو اُس کے جسم پر تشدد کے نشانات پائے گئے۔
جس کے بعد عدالت نے فوری طور ڈی ایچ کیو اسپتال کے ایم ایس کو میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم دیا اورجیل انتظامیہ کو آرڈر کیا کہ وہ مکمل سیکیورٹی میں قیدی سلیمان کو ڈی ایچ کیو اسپتال پہنچائیں ۔
کیس کی سماعت ایڈیشنل سیشن جج فرخندہ ارشد اعوان نے کی۔
قیدی سلمان پر مبینہ تشدد کی رپورٹ گزشتہ سماعت پر عدالت میں جمع نہ کرائی جاسکی، عدالت نے اگلی سماعت پر ڈی ایس پی اکرم کو میڈیکل لیگل رپورٹ جمع کرانے کا حکم دے دیا۔

گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں










