اسلام آباد: امریکی سینیٹر نے کہا ہے کہ افغانستان سے ہماری فوج کے انخلاء پر پاکستان کو اعتماد میں نہ لینا عراق میں کیے گئے آپریشن سے بڑی غلطی ہے۔
تفصیلات کے مطابق امریکی سینیٹر لنزے گراہم نے افغانستان میں امریکی حکمتِ عملی پر مختلف سوالات کھڑے کرتے ہوئے کہا کہ صدر جوبائیڈن کا افغانستان سے فوجی انخلاء پر پاکستان سے رابطہ نہ کرنا تباہ کن ہوگا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں امریکی سینیٹر لنزے گراہم نے کہا کہ صدر جو بائیڈن کی جانب سے وزیرِ اعظم عمران خان سے رابطہ نہ کرنا عراق میں امریکی آپریشن سے بڑی غلطی ہوگی۔
ری پبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے امریکی سینیٹر نے پاکستان کو اعتماد میں نہ لینے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ بہت بڑی غلطی ہے۔ جوبائیڈن انتظامیہ یہ سمجھتی ہے کہ افغانستان میں امریکا کے مسائل حل ہوچکے، ایسا بالکل نہیں ہے۔
انہوں نے جو بائیڈن حکومت کی وزیرِ اعظم عمران خان سے رابطہ نہ کرنے کی پالیسی کو امریکا کی سنگین غلطی قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کا افغانستان سے انخلاء پاکستان سے گفت و شنید کے بغیر مؤثر ثابت نہیں ہوسکتا۔
خیال رہے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس سے روانگی اور جو بائیڈن کی آمد کے بعد پاکستانی عوام کو امید ہوچلی تھی کہ پاک امریکا تعلقات میں بہتری آئے گی تاہم نئی حکومت نے ایسی تمام تر امیدوں پر پانی پھیر دیا۔
جوبائیڈن حکومت پاکستان کے مخالف ملک بھارت اور اس کے حلیف اسرائیل سے پینگیں بڑھانے میں مصروف ہے۔ آج سے 2 روز قبل یہ خبر سامنے آئی کہ امریکی صدر جو بائیڈن 28 جون کو وائٹ ہاؤس میں اسرائیلی ہم منصب ریوین ریولین کی میزبانی کریں گے۔
میڈیارپورٹس کے مطابق وائٹ ہاؤس کی ترجمان جین ساکی نے رواں ہفتے اپنے ایک بیان میں کہا کہ صدر ریولین کے دورے سے امریکااور اسرائیل کے درمیان پائیدار شراکت داری اور دونوں ممالک کے گہرے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔
اسرائیلی صدرجولائی میں اپنی 7 سالہ مدت ختم ہونے سے قبل امریکا کا دورہ کریں گے۔ان کی جگہ اضحاق ہرزوگ کو بنجمن نیتن یاہو کی حکومت ختم ہونے کے بعد اسرائیل کا نیا صدر منتخب کیا گیا تھا۔
مزید پڑھیں: جوبائیڈن 28 جون کو اسرائیلی صدرکی میزبانی کریں گے،وائٹ ہاؤس
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں









