امریکی فضائیہ کے بی-2 اسپرٹ بمبار طیارے کو دنیا کے مہنگے ترین اور تکنیکی لحاظ سے جدید ترین فوجی طیارے کا درجہ حاصل ہے۔
اسٹیلتھ بمبار کے نام سے مشہور یہ طیارہ ایسے ڈیزائن اور کوٹنگ پر مشتمل ہے کہ دشمن کے ریڈار سسٹمز اسے باآسانی شناخت نہیں کر سکتے۔ اس کی پرواز گویا فضا میں موجود خاموش تباہی کا سایہ ہے۔
بی-2 کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کی ریڈار سے بچاؤ کی صلاحیت ہے۔ اس کا منفرد “فلائنگ وِنگ” ڈیزائن، کاربن کمپوزٹ میٹریل، اور خاص ریڈار جاذب کوٹنگ اسے ریڈار پر نظر آنے سے تقریباً ناممکن بنا دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ طیارہ دشمن کے دفاعی نظام کو توڑے بغیر اندرونی علاقوں تک پہنچ سکتا ہے۔
بی-2 بمبار 18,000 کلوگرام سے زائد اسلحہ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے جس میں روایتی بم، GPS گائیڈڈ ہتھیار، اور جوہری بم شامل ہیں۔ اس میں دو داخلی بم بیز موجود ہیں جن سے یہ طیارہ انتہائی درستگی کے ساتھ ٹارگٹ کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
بی-2 بغیر کسی ری فیولنگ کے تقریباً 11,000 کلومیٹر تک پرواز کر سکتا ہے جبکہ ایئر ری فیولنگ کے بعد اس کی رینج تقریباً 19,000 کلومیٹر تک جا سکتی ہے۔ اس کی کروزنگ سپیڈ تقریباً 1,010 کلومیٹر فی گھنٹہ (Mach 0.85) ہے۔ یہ صلاحیت اسے دنیا کے کسی بھی کونے تک براہِ راست کارروائی کے قابل بناتی ہے۔
بی-2 میں دو پائلٹ ہوتے ہیں اور اس کا کاک پٹ جدید ترین اویونکس، ڈیجیٹل کنٹرول سسٹمز اور سمارٹ نیویگیشن سے آراستہ ہے۔ جدید سنسرز اور خودکار سسٹمز پائلٹ کو خطرناک مشنوں میں مکمل کنٹرول اور سیکیورٹی فراہم کرتے ہیں۔
بی-2 بمبار نہ صرف امریکہ کی جوہری ٹرائیڈ (nuclear triad) کا حصہ ہے بلکہ عالمی طاقت کے اظہار کا ایک علامتی ہتھیار بھی ہے۔ اسے افغانستان، عراق، سربیا اور حالیہ برسوں میں مختلف مشنز میں استعمال کیا جا چکا ہے، جہاں یہ دشمن کے بنیادی عسکری اہداف کو بغیر کسی پیشگی اطلاع کے نشانہ بنا چکا ہے۔
ہر بی-2 اسپرٹ کی قیمت تقریباً 2.1 ارب ڈالر ہے، جسے اسے دنیا کا مہنگا ترین ملٹری ایئرکرافٹ بناتا ہے۔ امریکی فضائیہ کے پاس فی الحال صرف 20 سے 21 ایسے طیارے موجود ہیں، جنہیں انتہائی رازداری اور حفاظت کے ساتھ رکھا جاتا ہے۔
بی-2 اسپرٹ بمبار طیارہ جدید ٹیکنالوجی، عسکری مہارت اور غیر مرئی تباہی کا ایسا امتزاج ہے جو آج بھی دنیا کی کسی بھی فضائیہ کے لیے چیلنج بنا ہوا ہے۔ یہ طیارہ جنگی حکمتِ عملی میں فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے اور امریکہ کی دفاعی برتری کی بنیادوں میں سے ایک مضبوط ستون تصور ہوتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








