ایک پر حملہ سب پر حملہ تصور کیا جائے گا! جی سی سی ممالک کی ایران کو تنبیہ

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ عرب میڈیا)

خلیج تعاون کونسل کے 19ویں مشاورتی اجلاس میں خطے کی سیکیورٹی اور دفاعی صورتحال پر اہم اور فیصلہ کن پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں خلیجی رہنماؤں نے ایک مشترکہ اور سخت موقف اختیار کرتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ کسی بھی رکن ملک پر حملہ دراصل تمام رکن ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

سعودی عرب کی میزبانی میں منعقد ہونے والے اس اجلاس کی صدارت سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کی۔ اجلاس میں خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، ایران کی جانب سے مبینہ حملوں اور مجموعی دفاعی حکمت عملی پر تفصیلی غور کیا گیا اور کئی اہم فیصلے کیے گئے۔

اجلاس کے دوران خلیجی رہنماؤں نے متفقہ طور پر ایک مضبوط پیغام دیتے ہوئے اعلان کیا کہ جی سی سی کے کسی بھی ایک ملک کو نشانہ بنانا تمام رکن ممالک کی سلامتی پر حملے کے مترادف ہوگا۔ ساتھ ہی اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ رکن ممالک اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام کرنے کا حق رکھتے ہیں۔

جی سی سی کے سیکرٹری جنرل جاسم محمد البدیوی نے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ خلیجی ممالک اور اردن پر ایران کی جانب سے کیے جانے والے حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔ ان کے مطابق شہری تنصیبات کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ خلیجی افواج نے حالیہ میزائل اور ڈرون حملوں کو بروقت اور موثر طریقے سے ناکام بنا کر اپنی دفاعی صلاحیت کا عملی ثبوت دیا ہے۔

اجلاس میں آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بھی دوٹوک موقف اپنایا گیا اور واضح کیا گیا کہ اس اہم بحری راستے کو بند کرنے یا اس میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کو سختی سے مسترد کیا جاتا ہے۔ رہنماؤں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ بین الاقوامی سمندری راستوں کی حفاظت کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کرے۔

اجلاس کے اختتامی اعلامیے میں بیلسٹک میزائلوں کے خطرات سے نمٹنے کے لیے ابتدائی وارننگ سسٹم کو جلد مکمل کرنے پر زور دیا گیا تاکہ کسی بھی ممکنہ فضائی خطرے کا فوری اور موثر جواب دیا جا سکے۔

Related Posts