انجو انڈیا جاکر مشکل میں پھنس گئیں، بچوں کا ملنے سے انکار

تازہ ترین

تازہ ترین

سوشل میڈیا پر دوستی کرکے پاکستانی نوجوان نصر اللہ سے شادی کرنے والی انڈین خاتون انجو واپس اپنے ملک بھارت پہنچ گئی ہیں، تاہم وہاں ان کے بچوں نے اُن سے ملاقات سے انکار کردیا ہے۔

انجو رواں برس جولائی میں نصر اللہ سے شادی کرنے کے لیے خیبر پختونخوا کے ضلع اپر دیر پہنچی تھیں۔ انہوں نے یہاں اسلام قبول کیا تھا جس کے بعد اُن کا نام فاطمہ رکھا گیا تھا۔

انڈیا ٹوڈے کے مطابق نصر اللہ سے شادی سے قبل انڈیا میں انجو اروند نامی شخص کی اہلیہ تھیں اور دونوں کے دو بچے بھی ہیں۔

انجو 29 نومبر کو واہگہ بارڈر کے ذریعے انڈیا پہنچی تھیں جہاں سے وہ جہاز میں بیٹھ کر نئی دہلی پہنچیں۔

انجو واپس انڈیا چلی گئی

انڈین میڈیا کے مطابق انجو کے دونوں بچے 15 سالہ بیٹی اور چھ سالہ بیٹا راجستھان میں مقیم ہیں اور انہوں نے اپنی والدہ سے ملنے سے انکار کردیا ہے۔

انجو کا جس محلے میں قیام ہے وہاں سیکورٹی بڑھا دی گئی ہے اور کسی بھی انجان شخص یا گاڑی کو وہاں داخل ہونے کی اجازت نہیں۔

راجستھان کے علاقے بھیواڑی کے ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (اے ایس پی) سیپک سائنی کا کہنا ہے کہ انجو کے حوالے سے تحقیقات چل رہی ہیں اور کچھ لوگوں کے بیانات بھی قلمبند کیے گئے ہیں اور اگر ضرورت پڑی تو انجو سے بھی سوالات کیے جا سکتے ہیں۔

انڈیا ٹوڈے کے مطابق 29 نومبر کو جب انجو واہگہ بارڈر کے ذریعے انڈیا میں داخل ہوئی تھیں تو وہاں بھی ان سے پنجاب پولیس اور انٹیلی جنس بیورو کے اہلکاروں نے پوچھ گچھ کی تھی۔

زارا نور عباس کے ہاں ننھے مہمان کی آمد، خوبصورت تصویر شیئر

انجو جب نئی دہلی پہنچیں تو اُن سے صحافیوں نے پوچھا تھا کہ کیا وہ اب انڈیا میں ہی رہیں گی؟ اُن کا کہنا تھا کہ ’میں ابھی کچھ نہیں کہنا چاہوں گی۔‘

انڈین میڈیا میں یہ اطلاعات بھی گردش کر رہی ہیں کہ انجو انڈیا اپنے سابق شوہر کے ساتھ طلاق کے معاملات نمٹانے گئی ہیں اور اپنے بچوں کو ساتھ پاکستان لے جانے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

انجو کے سابق شوہر سے جب انجو کی انڈیا آمد کے حوالے سے پوچھا گیا تو اروند کا کہنا تھا کہ ’مجھے اُن کے حوالے سے کوئی بھی بات کرنے میں دلچسپی نہیں۔‘

اروند کے مطابق اُن کی انجو سے اب تک طلاق نہیں ہوئی ہے کیونکہ ان معاملات کو مکمل ہونے میں کم سے کم تین سے پانچ مہینے لگتے ہیں۔

Related Posts