ایک اور صحافی اسرائیلی دہشتگردی کا نشانہ! صحافتی تنظیموں کا غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں کی کوریج کے دوران ایک لبنانی صحافی شہید ہوگئیں جبکہ ایک صحافی شدید زخمی ہوگیا۔ یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب سرحدی علاقوں میں کشیدگی اور فوجی کارروائیاں مسلسل جاری تھیں جس سے میڈیا ورکرز کیلئے صورتحال مزید خطرناک ہو گئی ہے۔

ابتدائی رپورٹس کے مطابق مقامی صحافی امال خلیل حملوں کے بعد ہونے والی تباہی کی رپورٹنگ کر رہی تھیں کہ وہ اچانک فائرنگ یا حملے کی زد میں آ کر موقع پر ہی شہید ہو گئیں۔ ان کے ساتھ موجود ایک اور صحافی بھی شدید زخمی ہوا جسے فوری طبی امداد کی ضرورت پیش آئی۔

اطلاعات کے مطابق علاقے میں جاری شدید شیلنگ اور گولہ باری کے باعث ریسکیو ٹیمیں بروقت موقع پر نہیں پہنچ سکیں جس کی وجہ سے زخمی صحافی کو محفوظ مقام تک منتقل کرنے میں بھی تاخیر ہوئی۔ اس صورتحال نے جنگی علاقوں میں صحافیوں کے تحفظ سے متعلق سنگین سوالات کو جنم دیا ہے۔

اسرائیلی فوج کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا ہے کہ کارروائیاں حزب اللہ سے منسلک ٹھکانوں کے خلاف کی گئیں اور صحافیوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے کے الزامات کو مسترد کیا گیا ہے تاہم اس واقعے نے عالمی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

صحافتی آزادی کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے اس واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے جنگی علاقوں میں کام کرنے والے صحافی پہلے ہی انتہائی خطرناک حالات میں رپورٹنگ کر رہے ہیں جہاں صورتحال لمحہ بہ لمحہ بدلتی رہتی ہے اور شناخت بھی مشکل ہو جاتی ہے۔

ان تنظیموں نے مزید کہا کہ ریسکیو آپریشن میں تاخیر اور متاثرین تک فوری رسائی نہ ہونا بین الاقوامی انسانی قوانین کے نفاذ پر سوال اٹھاتا ہے جو جنگی حالات میں عام شہریوں اور صحافیوں کے تحفظ کی ضمانت دیتے ہیں۔

صحافتی اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس واقعے کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ذمہ داری کا تعین کیا جا سکے اور مستقبل میں ایسے واقعات کو روکا جا سکے۔ ان کے مطابق صرف غیر جانبدار تحقیقات ہی صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔

Related Posts