پاکستان کی مقامی فوڈ ڈیلیوری سروس فوڈ پاپا کے صارفین کا حساس ڈیٹا مبینہ طور پر لیک ہو گیا ہے۔ یہ دعویٰ سوشل میڈیا پر ٹیکنالوجی انٹرپرینیور اور سابق سینیٹ ای کامرس ایڈوائزر عون عباس کے سابق ٹیم ممبر ذوالقرنین عباس کی جانب سے سامنے آیا ہے۔
فیس بک پر کی گئی ایک پوسٹ میں ذوالقرنین عباس نے الزام عائد کیا کہ جنوری 2026 کے ایک بیک اپ سے متعلق ڈیٹا جس میں تقریباً 240,000 اکاؤنٹس کی معلومات شامل تھیں ڈارک ویب کے ایک فورم پر شیئر کیا گیا۔
ان کے مطابق یہ واقعہ کمپنی کے ڈیٹا سیکیورٹی نظام پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے اور شیخانی گروپ کے اس دعوے کو بھی متاثر کرتا ہے جس میں وہ پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت اور مقامی ڈیلیوری سروس کو محفوظ بنانے کی بات کرتے ہیں۔
پوسٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس مبینہ لیک میں 217,000 سے زائد صارفین تقریباً 22,000 ڈیلیوری رائیڈرز اور 109 ایڈمن اکاؤنٹس کا ڈیٹا شامل ہوسکتا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ متاثرہ معلومات میں صارفین کے نام، فون نمبرز، ای میل ایڈریسز، پاس ورڈز، گھریلو پتے اور کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ نمبرز جیسے انتہائی حساس ذاتی ریکارڈ شامل ہیں۔
اس صورتحال کے بعد وِسل بلوئر نے صارفین کو فوری طور پر اپنے پاس ورڈز تبدیل کرنے اور احتیاطی اقدامات اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے خاص طور پر ان افراد کو جو ایک ہی پاس ورڈ مختلف پلیٹ فارمز پر استعمال کرتے ہیں۔
ابھی تک متعلقہ کمپنی فوڈ پاپا کی جانب سے اس مبینہ ڈیٹا لیک پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








