انڈیا میں گائے کیلئے ایک اور مسلمان کو تشدد کرکے مار دیا گیا

تازہ ترین

تازہ ترین

انڈیا میں گائے کا گوشت لے جانے کے شُبہے میں ہجوم کے تشدد سے ایک مسلمان شہری شہید ہو گیا ہے۔

این ڈی ٹی وی کے مطابق یہ واقعہ منگل کو ریاست بہار کے ضلع سیوان میں اس وقت پیش آیا جب ایک 56 برس کے مسلمان نسیم قریشی کو گائے کا گوشت لے جانے کے شبے میں ہجوم نے بے دردی سے مارا۔

پولیس سپرنٹنڈنٹ گورو منگلا کا کہنا ہے کہ ’حسن پور گاؤں کے رہائشی نسیم قریشی اپنے بھتیجے فیروز احمد قریشی کے ساتھ کسی جاننے والے سے ملنے جا رہے تھے جب ہجوم نے جوگیہ گاؤں کے قریب مبینہ طور پر ان کو ایک مسجد کے قریب روکا۔‘

پولیس کے مطابق فیروز احمد قریشی وہاں سے بھاگنے میں کامیاب ہوئے جبکہ نسیم قریشی کو ہجوم نے لاٹھیوں سے مارا پیٹا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ہجوم نے خود نسیم قریشی کو پولیس کے حوالے کیا جس کے بعد اس کو ہسپتال پہنچایا گیا اور دوران علاج ان کی موت واقع ہوگئی۔

پولیس واقعے کی تفتیش کر رہی ہے کہ آیا ان کے پاس گائے کا گوشت تھا یا نہیں۔

مقامی سرپنچ سوشیل سنگھ اور دو مقامی افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

پولیس دیگر دو افراد کو بھی ڈھونڈ رہی ہے جن کے نام مقتول کے بھتیجے نے ایف آئی آر شامل کیے ہیں۔

اس سے قبل بھی انڈیا میں گائے کا گوشت کھانے یا لے جانے پر مسلمان شہریوں کو ہجوم نے تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔

Related Posts