ایک اور نئی جنگ شروع ہوگئی؛ تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے ایک دوسرے پر فضائی حملے

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ الجزیرہ)

تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان سرحدی علاقے میں ہونے والی فوجی جھڑپوں نے کشیدگی کی شدت میں اضافہ کر دیا ہے۔ تازہ جھڑپوں میں اب تک کم از کم 12 افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہوئی ہے جس میں 11 تھائی شہری اور ایک فوجی شامل ہے جبکہ درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔

تھائی وزارت دفاع کے مطابق جھڑپوں کا آغاز کمبوڈین فورسز کی جانب سے بھاری ہتھیاروں کے استعمال سے ہوا، جس کے بعد تھائی فورسز نے جوابی کارروائی کی۔ جھڑپوں کا مرکز قدیم کھمر مندر تا موآن تھوم کے آس پاس کا علاقہ ہے جو دونوں ملکوں کے درمیان ایک عرصے سے متنازع چلا آ رہا ہے۔

تھائی فوج نے تصدیق کی ہے کہ کمبوڈیا کی جانب سے کیے گئے حملوں کے جواب میں ایک ایف-16 لڑاکا طیارے نے کمبوڈین فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔ دوسری جانب کمبوڈیا نے ان حملوں کو مسلح جارحیت قرار دیتے ہوئے میزائلوں سے جوابی کارروائی کی ہے۔

کمبوڈین وزیر اعظم ہن مانیت نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو ایک خط بھی ارسال کیا ہے جس میں تھائی جارحیت پر فوری اجلاس بلانے کی درخواست کی گئی ہے۔ یہ خط اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد کے نام لکھا گیا، جو اس وقت سلامتی کونسل کی صدارت کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

ادھر چین نے دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گو جیاکو نے کہا ہے کہ بیجنگ خطے میں امن و استحکام کا خواہاں ہے اور چاہتا ہے کہ دونوں ممالک بات چیت اور مشاورت کے ذریعے معاملے کو پرامن طریقے سے حل کریں۔ ترجمان نے یہ بھی واضح کیا کہ چین اس تنازع میں غیر جانبدارانہ اور تعمیری کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہے۔

سرحدی کشیدگی کے باعث دونوں ممالک نے اپنے سفیروں کو واپس بلا لیا ہے، جبکہ کمبوڈیا نے تھائی سفارتی عملے کو ملک چھوڑنے کا حکم بھی دے دیا ہے۔ جھڑپوں کے دوران کئی تھائی سرحدی علاقوں میں مکانات، اسپتال، زرعی زمینیں اور گیس اسٹیشنز کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

متاثرہ علاقوں میں خوف و ہراس پھیل چکا ہے اور مقامی افراد، جن میں بچے اور بزرگ بھی شامل ہیں، بم پروف پناہ گاہوں میں منتقل ہو چکے ہیں۔

تھائی فوج کا کہنا ہے کہ وہ ملک کی خودمختاری، شہریوں کے تحفظ اور سرحدوں کے دفاع کے لیے پوری طرح تیار ہے، جبکہ کمبوڈیا کی مسلح افواج بھی اپنی سرزمین کے دفاع پر ڈٹی ہوئی ہیں۔

Related Posts