سرگودھا میں انسداد تجاوزات کے عملے نے ہاتھا پائی کرنے پر گاڑیوں کے بمپر مرمت کرنے والے کاریگر کی جان لے لی۔
بلدیہ کے محکمہ اینٹی انکروچمنٹ کے عملے نے مبینہ طور پر عبداللہ نامی کاریگر پر تشدد کیا جس سے وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔
بلدیہ سرگودھا کے دکانداروں نے الزام لگایا ہے کہ عبداللہ کو میونسپل کارپوریشن کے عملے نے سر میں کرسی مار کر قتل کردیا۔اس کے بعد تاجروں کی بڑی تعداد نے اس واقعے کے خلاف احتجاج کیا اور عبداللہ کے ورثاء نے اس کی لاش خیام چوک میں رکھ کر دھرنا دیا جس سے یونیورسٹی روڈ پر ٹریفک بہت دیر تک بلاک رہی۔
سرگودھا پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کرکے عبداللہ کی لاش تحویل میں لے کر واقعے کی تفتیش شروع کردی ہے۔