مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) میں مسجد اقصیٰ مغربی دیوار جو یہودیوں کا مقدس مقام ہے اور دیوار گریہ بھی کہلاتی ہے، پر غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ کی مذمت میں عبرانی زبان میں نعرے لکھے گئے، جس سے اسرائیل بھر میں مذہبی رہنماؤں اور سیاست دانوں کی جانب سے شدید ردعمل کو جنم دیا۔
اے ایف پی کے مطابق ’’غزہ میں ہولوکاسٹ جاری ہے‘‘ کا جملہ دیوار کے جنوبی حصے پر درج تھا۔ یہ وہ مقدس مقام ہے جہاں یہودی عبادت کرتے ہیں اور جو اسرائیل کے زیرِ قبضہ پرانے شہر میں واقع ہے۔ اسی نوعیت کا ایک اور پیغام شہر کے دوسرے حصے میں واقع عظیم کنیسہ کی دیوار پر بھی لکھا گیا۔
اسرائیلی پولیس کے مطابق 27 سالہ مشتبہ شخص کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے، جبکہ اس کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔ پولیس نے اس کی حراست میں توسیع کی درخواست دی ہے۔
واقعے پر مغربی دیوار کے ربّی شموئیل رابینووٹش نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مقدس مقام احتجاج کے لیے نہیں ہے اور پولیس کو اس بے حرمتی کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانا چاہیے۔
انتظامیہ کے مطابق صبح سویرے ہی چاکنگ کو مٹا دیا گیا۔ دوسری طرف اسرائیل کے قومی سلامتی کے انتہا پسند وزیر اتمار بن گویر نے وعدہ کیا کہ پولیس بجلی کی سی تیزی سے کارروائی کرے گی، جبکہ دائیں بازو کے وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ نے کہا کہ ملزم بھول گئے ہیں کہ یہودی ہونا کیا معنی رکھتا ہے۔
اپوزیشن نے بھی واقعے کی مذمت کی۔ سابق وزیر دفاع اور اپوزیشن رہنما بینی گینٹز نے اسے ’’پورے یہودی عوام کے خلاف جرم‘‘ قرار دیا۔
واضح رہے کہ مغربی دیوار یروشلم کے پرانے شہر کے قلب میں واقع ہے، جس پر اسرائیلی افواج نے 1967 کی عرب اسرائیل جنگ کے دوران قبضہ کیا تھا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








