وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے “اپنا کھیت، اپنا روزگار اسکیم” کیلئے آن لائن پورٹل کا باقاعدہ افتتاح کر دیا ہے۔ اس پروگرام کے تحت کامیاب درخواست دہندگان کو فی ایکڑ پچاس ہزار روپے سے لے کر ڈھائی لاکھ روپے تک کی ایک مرتبہ دی جانے والی آبادکاری گرانٹ فراہم کی جائے گی، جس کا مقصد زرعی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے۔
پنجاب میں زمین سے محروم دیہی آبادی کیلئے ایک بڑا اور تاریخی منصوبہ شروع کیا گیا ہے جس کے تحت تقریباً 160 ارب روپے مالیت کی زرعی زمین فراہم کی جا رہی ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز کی ہدایت پر ان اراضیوں کی نشاندہی اس بنیاد پر کی گئی ہے کہ وہاں پانی کی دستیابی اور زمین کی زرخیزی مناسب ہو تاکہ کاشت ممکن ہو سکے۔
صوبے کے مختلف اضلاع میں مجموعی طور پر 13 ہزار 812 زرعی لاٹ سے 88 ہزار 780 دیہی خاندان فائدہ اٹھائیں گے۔ اسی طرح چولستان کے علاقے میں 16 ہزار 685 لاٹ کے ذریعے ایک لاکھ 11 ہزار سے زائد خاندان اس اسکیم سے مستفید ہوں گے۔
اس اسکیم کے تحت منتخب ہونے والے ہر کاشتکار کو 25 سے 40 لاکھ روپے مالیت کی زرعی زمین کاشت کے لیے دی جائے گی۔ سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو نبیل جاوید نے اس منصوبے پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے اس کی مختلف انتظامی اور عملی پہلوؤں سے آگاہ کیا۔
پانی کی دستیابی کو مدنظر رکھتے ہوئے مجموعی طور پر ایک لاکھ 24 ہزار 374 ایکڑ زرعی اراضی کا انتظام کیا گیا ہے۔ دیہی علاقوں کے بے روزگار کاشتکاروں کو یہ زمین دس سال کیلئے دی جائے گی، جبکہ اضلاع میں 43 ہزار 938 اور چولستان میں 83 ہزار 425 مختلف قابلِ کاشت علاقے بھی اسی منصوبے کے تحت منتخب کیے گئے ہیں۔
خواہشمند افراد 2 مئی سے 18 مئی تک ویب سائٹ akarpunjabgovt.pk پر درخواست جمع کرا سکتے ہیں۔ درخواستوں کے خلاف اپیلیں یکم جون سے 8 جون تک ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں دائر کی جا سکیں گی، جبکہ حتمی فہرست 19 جون کو جاری کی جائے گی۔ زمین کی تقسیم 30 جون سے شروع ہوگی اور اگر ایک سے زیادہ امیدوار ہوں تو قرعہ اندازی کے ذریعے زمین الاٹ کی جائے گی، جو دس سال کے معاہدے پر ہوگی۔
اس اسکیم کے تحت دی جانے والی زمین صرف زرعی استعمال کیلئے مختص ہوگی اور اس پر کسی قسم کی پکی تعمیر کی اجازت نہیں ہوگی۔ ہر کاشتکار اپنی پسند کی فصل کاشت کرنے کا مجاز ہوگا۔ ہر پلاٹ کے ساتھ زرعی افسر اور انٹرن بھی منسلک کیے جائیں گے جبکہ اسسٹنٹ کمشنر اور محکمہ زراعت کے افسران پر مشتمل کمیٹی سال میں دو بار دورہ کر کے کاشت کی صورتحال کا جائزہ لے گی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








