اسلام آباد :سپریم کورٹ میں سانحہ اے پی ایس کیس میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے مذاکرات کا تذکرہ ہوا ،سپریم کورٹ نے کہا کہ چھوٹے ملازمین کیخلاف کارروائی، اوپر والے تنخواہیں اور مراعات لے کر چلتے بنے۔
بدھ کو دوران سماعت جسٹس قاضی امین نے کہا کہ اطلاعات ہیں کہ ریاست کسی گروہ سے مذاکرات کررہی ہے، کیا اصل ملزمان تک پہنچنا اور پکڑنا ریاست کا کام نہیں؟۔ چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ بچوں کو اسکولوں میں مرنے کے لیے نہیں چھوڑ سکتے، یہاں چوکیدار اور سپاہیوں کے خلاف کارروائی کر دی گئی۔
انہوں نے کہاکہ اصل میں تو کارروائی اوپر سے شروع ہونی چاہیے تھی مگر اوپر والے تنخواہیں اور مراعات لے کر چلتے بنے۔جسٹس اعجاز الاحسن نے مشاہدہ کیا کہ یہ ممکن نہیں کہ دہشت گردوں کو اندر سے سپورٹ نہ ملی ہو، اے پی ایس واقعہ سیکورٹی کی ناکامی تھی۔
سانحہ آرمی پبلک اسکول، دہشت گردوں سے مذاکرات پر عدالت برہم، حکومت کی سخت سرزنش
ملک میں حملوں کا خدشہ ہے، وزیراعظم، کیا ہم اب بھی محفوظ نہیں، سپریم کورٹ
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








