کیا پاکستان بھر کے پٹرول پمپ ناقص اور زہریلا ایندھن فروخت کر رہے ہیں؟

تازہ ترین

تازہ ترین

آئل مارکیٹنگ ایسوسی ایشن نے اس حوالے سے چشم کشا انکشافات کیے ہیں، فائل فوٹو

آئل مارکیٹنگ ایسوسی ایشن آف پاکستان نے پریمیم قیمتوں پر ناقص ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فراہمی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس مسئلے پر فوری توجہ دے تاکہ ماحول اور صارفین کے حقوق کا تحفظ کیا جا سکے۔

2 مئی کو سیکریٹری پٹرولیم کو ارسال کیے گئے ایک سخت لہجے کے خط میں آئل مارکیٹنگ ایسوسی ایشن کے چیئرمین طارق وزیر علی نے اوگرا کی حالیہ پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنایا جس کے تحت آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو مقامی ریفائنریوں سے ایندھن حاصل کرنے کا پابند بنایا گیا ہے۔ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ اس پالیسی کے نتیجے میں ایسا ڈیزل مارکیٹ میں فراہم کیا جا رہا ہے جو پاکستان میں 2021 سے نافذ یورو-5 کے بین الاقوامی معیار پر پورا نہیں اترتا۔

یورو-5 معیار کے مطابق ڈیزل میں سلفر کی مقدار زیادہ سے زیادہ 10 پارٹس پر ملین ہونی چاہیے، لیکن آئل مارکیٹنگ ایسوسی ایشن کے مطابق بعض مقامی ریفائنریاں ایسا ڈیزل تیار کر رہی ہیں جس میں سلفر کی مقدار 10,000 تک جا پہنچی ہے، جو کہ منظور شدہ حد سے ہزار گنا زیادہ ہے۔ ایسوسی ایشن نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس مضر صحت ایندھن کو اسی قیمت پر فروخت کیا جا رہا ہے جس پر اعلیٰ معیار کا درآمدی ڈیزل دستیاب ہوتا ہے، جو نہ صرف صارفین کو گمراہ کرتا ہے بلکہ منصفانہ قیمتوں کے اصول کی بھی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔

آئل مارکیٹنگ ایسوسی ایشن نے نشاندہی کی کہ 2023–2024 کے عرصے میں جہاں درآمدی ایندھن نے محض 64 میٹرک ٹن سلفر پیدا کیا، وہیں مقامی ریفائن شدہ ایندھن سے 15,800 میٹرک ٹن سے زائد سلفر خارج ہوا، جو ماحولیاتی لحاظ سے ایک خطرناک اشارہ ہے۔ ایسوسی ایشن نے متنبہ کیا کہ کم معیار والے ڈیزل سے خارج ہونے والی سلفر ڈائی آکسائیڈ نہ صرف فضا کو آلودہ کرتی ہے بلکہ تیزابی بارش، سانس کی بیماریوں، دمہ اور سرطان جیسی مہلک بیماریوں کا باعث بھی بن سکتی ہے۔

آئل مارکیٹنگ ایسوسی ایشن نے اس امر پر بھی تشویش ظاہر کی کہ وائٹ آئل پائپ لائن سسٹم میں مقامی ریفائنریوں سے حاصل کردہ زیادہ سلفر والا ڈیزل، یورو-5 درآمدی ڈیزل کے ساتھ ملا دیا جاتا ہے، جس سے نہ صرف صاف ایندھن آلودہ ہو جاتا ہے بلکہ عوام کو دھوکے میں رکھا جاتا ہے۔

ایسوسی ایشن نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ حکومت کی طرف سے دیے گئے 500 ارب روپے سے زائد کے مالی فوائد کے باوجود، جنہیں ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن کے لیے مختص کیا گیا تھا، بیشتر ریفائنریاں تاحال عالمی معیار پر نہیں آ سکیں۔

بحران کے حل کے لیے آئل مارکیٹنگ ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا کہ ایندھن کے معیار کی بنیاد پر قیمتوں کا الگ نظام متعارف کروایا جائے، تمام ریفائنریوں کو یورو-5 کے معیار پر سختی سے عمل درآمد کا پابند بنایا جائے، کم اور زیادہ سلفر والے ایندھن کی آمیزش پر پابندی لگائی جائے اور ایندھن کی فراہمی کے نظام میں مکمل شفافیت اور نگرانی کو یقینی بنایا جائے۔

Related Posts