آپ کے خاندانی ریکارڈ میں کوئی اجنبی تو شامل نہیں؟ ویڈیو دیکھیں کیسے فیملی ڈیٹا چیک کیا جائے

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ اسکرین گریب)

پاکستان میں غیر قانونی رہائش رکھنے والوں کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کے دوران نادرا نے ایک نیا ڈیجیٹل نظام متعارف کروایا ہے جس کے ذریعے شہری اپنے خاندانی ریکارڈ میں شامل ہر فرد کی مکمل تفصیلات بآسانی چیک کر سکتے ہیں۔

نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے قوانین میں تبدیلی کرتے ہوئے فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ (FRC) کو عام شہری کی دسترس میں دے دیا ہے۔ اس اقدام کے تحت اب ہر پاکستانی گھر بیٹھے یا قریبی نادرا دفتر جا کر یہ جان سکتا ہے کہ اس کے فیملی ریکارڈ میں کوئی اجنبی یا غیر متعلقہ شخص تو شامل نہیں کر لیا گیا۔

نادرا کے ترجمان سید شباہت علی نے ایک حالیہ انٹرویو میں بتایا کہ کسی اجنبی شخص کا فیملی ڈیٹا میں آ جانا عام طور پر تین وجوہات کی بنا پر ہوتا ہے۔

جان بوجھ کر کسی کو خاندان میں شامل کرنا

پیسے یا فائدے کے لالچ میں کسی اجنبی کو رجسٹر کروانا

یا پھر محض ڈیٹا انٹری کی غلطی

انہوں نے بتایا کہ 19 جون 2025 سے پہلے تک فیملی ڈیٹا حاصل کرنے کے لیے نادرا سے باقاعدہ درخواست دینا پڑتی تھی، مگر اب نئی سہولت کے تحت کوئی بھی شہری نادرا کی پاک آئی ڈی ایپ کے ذریعے گھر بیٹھے اپنی فیملی ڈیٹیلز چیک کر سکتا ہے وہ بھی بلا معاوضہ۔

اگر کسی شہری کو شک ہو کہ اس کے فیملی ٹری میں کوئی غیر متعلقہ شخص شامل ہے تو ایپ میں موجود رپورٹنگ فیچر کے ذریعے فوری شکایت درج کرائی جا سکتی ہے۔ اسی طرح قریبی نادرا مرکز میں جا کر بھی تحریری شکایت دی جا سکتی ہے۔

یہ نیا نظام ملک میں غیر قانونی رہائش رکھنے والے غیر ملکیوں کی نشاندہی میں بھی انتہائی مؤثر ثابت ہو رہا ہے کیونکہ ڈیجیٹل نظام نے جعلسازی کے امکانات کو کم کر دیا ہے۔

نادرا کی اس پیشرفت کو سوشل میڈیا پر بھی سراہا جا رہا ہے اور شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپنے خاندانی ریکارڈ کو ضرور چیک کریں تاکہ کسی بھی ممکنہ دخل اندازی سے بچا جا سکے۔

Related Posts