اٹلی نے پاکستان کے لیے آئندہ تین سالوں (2026 تا 2028) میں مجموعی طور پر 10,500 ملازمتوں کا کوٹہ مختص کر دیا ہے جس سے پاکستانی مزدوروں کو یورپ میں قانونی اور منظم روزگار کے نئے مواقع میسر آئیں گے۔ پاکستانی حکام نے اس اقدام کو غیر قانونی ہجرت کا محفوظ اور باعزت متبادل قرار دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان سے سالانہ بینادوں پر 3 ہزار 500 روکرز کو اٹلی کو ورک ویزا دیا جائے گا جس میں سے 1,500 سیزنل (موسمی) اور 2,000 نان سیزنل (غیر موسمی) ملازمتوں کے تحت اٹلی روانہ ہوں گے۔
یہ کوٹہ یورپ میں پاکستانیوں کے لیے کسی بھی منظم روزگار پروگرام کی پہلی مثال ہے جس میں اٹلی نے اپنے لیبر مارکیٹ کو باقاعدہ طور پر پاکستانی ورک فورس کے لیے کھولا ہے۔
ملازمتیں مختلف شعبوں میں فراہم کی جائیں گی جن میں شپ بریکنگ، ہاسپٹالیٹی، ہیلتھ کیئر اور زراعت شامل ہیں۔ ان شعبوں میں ویلڈرز، ٹیکنیشن، شیفس، ویٹرز، ہاؤس کیپنگ اسٹاف، نرسنگ اسٹاف، میڈیکل ٹیکنیشنز، فارمنگ اور زرعی مزدور شامل ہیں جہاں ہنر مند اور نیم ہنر مند پاکستانی کارکن روزگار حاصل کر سکیں گے۔
وفاقی وزیر وزارت اوورسیز پاکستانیز اور ہیومین ریسورس ڈیولپمنٹ چوہدری سالک حسین نے اس معاہدے کو اہم سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کوٹہ پاکستانی مزدوروں کو یورپی لیبر مارکیٹ میں باعزت اور قانونی راستے سے کام کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یورپ کے دیگر ممالک بھی پاکستان کے لیے اسی طرح کے مواقع فراہم کریں گے۔
سرکاری حکام کے مطابق پاکستان۔اٹلی جوائنٹ ورکنگ گروپ کا دوسرا اجلاس فروری 2026 میں اسلام آباد میں منعقد ہوگا جس میں اس کوٹہ اسکیم کے نفاذ اور ممکنہ توسیع پر بات چیت کی جائے گی۔
یہ اقدام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان سے بیرون ملک غیر قانونی ہجرت میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے اور اٹلی کی طرف جانے والے خطرناک سمندری راستوں کی وجہ سے کئی افراد اسمگلرز کے چنگل میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس نئے کوٹہ پروگرام سے امید کی جا رہی ہے کہ وہ غیر قانونی ہجرت کو کم کرکے قانونی، محفوظ اور باعزت روزگار کا راستہ فراہم کرے گا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








