سینئر صحافی ارشد شریف کی والدہ نے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کی استدعا کردی۔
چیف جسٹس عمر عطاء بندیال کو لکھے گئے خط میں ارشد شریف کی والدہ نے کہا کہ ارشد شریف شہید کے کیس کو متنازع ہونے سے بچایا جائے۔
یہ بھی پڑھیں:
عمران خان کا آزادی مارچ دن بہ دن خونی ہوتا جارہا ہے، عطا تارڑ
خط میں مزید کہا گیا ہے کہ کینیا پولیس نے 3 سے 4 مرتبہ اپنا موقف تبدیل کیا، وزیراعظم نے جوڈیشل کمیشن بنانے کا اعلان کیا تھا، حکومتی کمیشن سے بدنیتی ظاہر ہوتی ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے یو اے ای پر دباؤ ڈالا جسس پر ارشد کو دبئی چھوڑنا پڑا، جس کے بعد ارشد شریف کو کینیا جانا پڑا۔
خط میں کہا گیا کہ ارشد شریف کے اہلخانہ کو انصاف فراہم کیا جائے، شہدا کے اہلخانہ کا اور صحافی برادری کا غم انصاف کی فراہمی سے کم ہوگا۔
دوسری جانب وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ ارشد شریف قتل کیس میں انکوائری کمیشن بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے، اگران کی والدہ کمیشن کےعلاوہ کوئی اورطریقہ کارچاہتی ہیں تو ہماری رہنمائی فرمائیں۔
ارشد شریف قتل کیس میں انکوائری کمیشن بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے، اگران کی والدہ کمیشن کےعلاوہ کوئی اورطریقہ کارچاہتی ہیں تو ہماری رہنمائی فرمائیں، چاہتے ہیں ارشدشریف قتل کیس میں تہہ تک پہنچا جائے، فیکٹ فائینڈنگ کمیٹی اس وقت کینیا میں موجودہے، انکوائری رپورٹ کمیشن کوپیش کی جائے گی
— Rana SanaUllah Khan (@RanaSanaullahPK) November 1, 2022
اپنے ٹوئٹر بیان میں انہوں نے کہا کہ چاہتے ہیں ارشدشریف قتل کیس میں تہہ تک پہنچا جائے، فیکٹ فائینڈنگ کمیٹی اس وقت کینیا میں موجودہے، انکوائری رپورٹ کمیشن کوپیش کی جائے گی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








