پاکستان اور افغانستان کے درمیان مسائل ہونے کے قریب، افغان وزیرخارجہ کا اہم بیان سامنے آگیا

تازہ ترین

تازہ ترین

افغان وزیرخارجہ امیر خان متقی
افغان وزیرخارجہ امیر خان متقی، فائل فوٹو

افغان وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی نے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جا رہے ہیں اور مذاکرات و باہمی مفاہمت کے ذریعے حل تلاش کرنے کی کوشش جاری ہے، جس میں مثبت پیشرفت کی امید بھی ظاہر کی گئی ہے۔

انہوں نے یہ بات کابل میں افغانستان وسطی ایشیا مشاورتی اجلاس کے اختتام پر کہی اور چین کی میزبانی میں افغان اور پاکستانی وفود کے درمیان ہونے والی بات چیت کا حوالہ دیا۔

وزیر خارجہ نے بین الاقوامی اجلاسوں میں ازبکستان، قازقستان، کرغزستان، ترکمنستان اور تاجکستان کے صدور کی جانب سے ظاہر کیے گئے مثبت موقف اور حسنِ نیت کا خیرمقدم کیا۔

انہوں نے کہا کہ افغان قوم احسان فراموش نہیں بلکہ دوستی کی ایک مضبوط روایت رکھتی ہے۔

مولوی امیر خان متقی نے زور دیا کہ افغانستان وسطی ایشیا کے ممالک کے ساتھ دینی، مذہبی، لسانی، ثقافتی اور دیگر مشترکات کی بنیاد پر تعلقات کو فروغ دینا چاہتا ہے اور وسطی، جنوبی اور شمالی ایشیا کے درمیان ایک مؤثر پل کا کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے۔

انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ افغان حکومت امن کو سبوتاژ کرنے والے عناصر کے خلاف فیصلہ کن، بنیادی اور ہمہ جہت جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے اور کوئی بھی فرد یا گروہ جو خطے کے امن کے لیے خطرہ ہو، قابل قبول نہیں۔

وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ افغانستان اپنی سرزمین کسی بھی ملک کے مخالف عناصر کے استعمال کے لیے ہرگز اجازت نہیں دے گا۔افغانستان اس وقت خطے کے لیے کوئی مسئلہ نہیں بلکہ دوطرفہ تعاون کے تناظر میں ایک قابلِ اعتماد شراکت دار ہے۔

 انہوں نے کہا کہ امارت اسلامیہ اسی پالیسی کے تحت علاقائی اور عالمی فورمز میں فعال شرکت اور مؤثر کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

Related Posts