اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے اسرائیل کی وحشیانہ بمباری کے ایک مہینہ مکمل ہونے کے بعد غزہ کی صورتحال پر غور کرنے کیلئے 12 نومبر کو سعودی دار الحکومت ریاض میں تنظیم کا ہنگامی سربراہی اجلاس طلب کرلیا ہے۔
اسلامی ممالک کی تنظیم کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کی دعوت پر او آئی سی کا ہنگامی سربراہی اجلاس 12 نومبر کو الریاض میں منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
بیان میں مزید کسی تفصیل کے بغیر کہا گیا ہے کہ مسلم دنیا کے سربراہان کے اس اجلاس کا مقصد فلسطینی عوام کے خلاف وحشیانہ اسرائیلی جارحیت پر تبادلہ خیال کرنا ہے۔
غزہ پر حملوں کے دوران ایک بڑے اسلامی مدرسے میں ‘واہیات’ مشاعرہ۔ حقیقت کیا ہے؟
18 اکتوبر کو اسلامی تعاون تنظیم نے اپنے وزرائے خارجہ اجلاس میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا تھا۔
30 اکتوبر کو عرب ریاستوں کی تنظیم (عرب لیگ) کے سیکرٹری جنرل کے معاون نے بتایا کہ لیگ کے جنرل سیکرٹریٹ کو فلسطین اور سعودی عرب کی طرف سے 11 نومبر کو عرب سربراہی اجلاس منعقد کرنے کی باضابطہ درخواست موصول ہوئی ہے۔
دریں اثنا غزہ میں وزارت صحت نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی جارحیت کے آغاز سے اب تک شہدا کی تعداد 10022 سے تجاوز کر گئی ہے، نیز اسرائیلی جارحیت کے 70 فیصد متاثرین خواتین اور بچے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








