ویڈیو: ہمیں وہ دین کا مطلب سکھانے نکلے ہیں۔ بھارتی پارلیمنٹ سے اسداویسی کا دھواں دار خطاب

تازہ ترین

تازہ ترین

اسد الدین اویسی
(فوٹو: آن لائن)

بھارتی پارلیمنٹ سے آل انڈیا مجلس اتحاد المسلین کے صدر اور رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے دھواں دار خطاب کرتے ہوئے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سمیت دیگر کے تن من میں آگ لگا دی۔ اسد الدین اویسی نے مختلف مواقع پر اشعار کا خوبصورتی سے استعمال کرتے ہوئے کاٹ دار جملے کسے جن سے بندےماترم کی سالگرہ منانے والوں کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔

تفصیلات کے مطابق بھارتی پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اسد الدین اویسی نے کہا کہ یہاں 30 سے زائد اراکین پارلیمنٹ موجود ہیں۔ ہم محمد علی جناح کے سخت مخالف ہیں، اس لیے ہم نے بھارت کو اپنا وطن مانا۔ 1942 میں جناح (قائد اعظم) کی پارٹی نے سرحد (موجودہ کے پی کے)، سندھ اور بنگال میں مل کر حکومت چلائی۔

خطاب کے دوران اسد الدین اویسی نے کہا کہ اس حکومت نے ڈیڑھ لاکھ ہندوؤں اور مسلمانوں کو فوج میں شامل کرایا تاکہ وہ لڑیں۔ کسی شاعر نے وزیراعظم (نریندر مودی) کے بارے میں اچھا کہا تھا کہ

فریب دے کے زمانے کو پارسا نہ بنیں

انہیں کہو کہ وہ بندہ بنیں خدا نہ بنیں

امیر شہر یہی چاہتا ہے یا حضرت

ہماری چیخ گلے میں رہے، صدا نہ بنے

آل انڈیا مجلس وحدت المسلمین کے صدر نے کہا کہ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے ام المؤمنین اور ام الکتاب کے بارے میں تکلیف دہ بات کی۔ ام المؤمنین ہمارے نبی ﷺ کی ازواجِ مطہرات کو کہتے ہیں، ہم مسلمان انہیں اپنی ماں تصور کرتے ہیں مگر ہم ان کی عبادت نہیں کرتے۔ ہم اپنی ماں کی بھی عبادت نہیں کرتے۔

رکن پارلیمنٹ اسد اویسی نے کہا کہ قرآنِ پاک ام الکتاب ہے اور ہم اس کتاب کی بھی عبادت نہیں کرتے۔ اس کے بارے میں شاعر نے اچھا کہا کہ

خبر نہیں ہے جنہیں اپنے دین و مذہب کی

ہمیں وہ دین کا مذہب سکھانے نکلے ہیں

اسد الدین اویسی نے کہا کہ بھارتی آئین کا آغاز وی دی پیپل یعنی عوام کے نام سے ہوتا ہے، اس کا آغاز بھارت ماتا کے نام سے نہیں ہوتا۔ ہمارے آئین کا پری ایمبل ہمیں اظہارِ خیال کی اور مذہب کی آزادی دیتا ہے۔ اگر دستور کا پہلا صفحہ یہ بات کرتا ہے تو پھر کیسے کسی شہری کو کسی خدا، دیوی یا دیوتا کی عبادت یا سجدہ کرنے پر مجبور کیا جاسکتا ہے؟

واضح رہے کہ بندے ماترم کو ہندو انتہا پسند اپنا ترانہ قرار دیتے ہیں جس پر بھارتی مسلمانوں میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے اور اسد الدین اویسی سمیت دیگر مسلمان رہنما یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ قیامِ پاکستان کے موقعے پر ان کا یا ان کے بزرگوں کا بھارت میں ہی بس جانے کا فیصلہ درست تھا یا غلط؟ مودی حکومت کی انتہا پسندانہ پالسییوں نے انہیں یہ سوچنے مجبور کیا ہے۔

Related Posts