اشرف غنی کی پاکستان دشمنی پھر کھل کر سامنے آگئی

تازہ ترین

تازہ ترین

افغانستان کے صدر اشرف غنی نے طالبان قیدیوں کی رہائی کو پاکستان سے تعلق کے خاتمے سے مشروط کردیا ہے، اس سے قبل افغان صدر امریکا طالبان امن معاہدے کے چند گھنٹے بعد ہی اہم شرط سے پیچھے ہٹ گئے تھے۔ اشرف غنی پہلے بھی پاکستان کیخلاف تنقید کرتے رہے ہیں اور اب انہوں نے طالبان پرپاکستان کیساتھ تعلق ختم کرنے کی شرط عائد کرکے اپنی بدنیتی واضح کردی ہے۔

دوسری بار افغانستان کے صدر بننے والے اشرف غنی کی قیادت میں پاک افغان تعلقات میں کئی بار اتار چڑھائو دیکھنے میں آیا تاہم پاکستان کی افہام وتفہیم کی پالیسی نے معاملے کو بگاڑ کی طرف نہیں جانے دیا۔

40 سال سے افغان مہاجرین کا بوجھ اٹھانے کے باوجود افغانستان کی حکومت پاکستان کا احسان ماننے کی بجائے پاکستان پر الزام تراشی کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتی۔

پاکستان میں پناہ کے دوران افغان مہاجرین ملک کے تمام وسائل سے فائدہ اٹھاتے رہے اور کئی ناخوشگوار واقعات میں بھی ملوث رہے ہیں لیکن اس کے باوجود پاکستان نے افغان مہاجرین کو ہمیشہ خندہ پیشانی سے مہمان تسلیم کرتے ہوئے ہرممکن طریقے سے مدد کرنے کی کوشش کی ہے۔

بھارت نواز افغان صدر اشرف غنی کے دور میں افغانستان میں پاکستان کے سفارتے عملے کو ہراساں کرنے اور سرحد پار سے پاکستان میں حملے بھی معمول کا حصہ ہیں لیکن پاکستان کی جانب سے کوئی سخت جواب نہیں دیا جاتا۔

اپنے پیشرو حامد کرزئی کی روش برقرار رکھتے ہوئے اشرف غنی بھی اکثر بین الاقوامی فورمز پر پاکستان کے مظالم اور افغانستان کے مسائل کا واویلہ کرتے دکھائی دیتے ہیں اور ہرممکن طور پر افغانستان کی صورتحال کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اشرف غنی اس سے قبل بھی پاکستان پر دہشت گردی کے الزامات عائد کرتے ہوئے اقوام عالم سے پاکستان کی مدد کا سلسلہ ترک کرنے کی درخواستیں کرچکے ہیں تاہم دنیا اس بات کاادراک کرچکی ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کی اصل کڑیاں  افغانستان سے ملتی ہیں اور پاکستان دہشت گرد نہیں بلکہ دہشت گردی سے متاثرہ ملک ہے اور دنیا میں امن کیلئے افغان طالبان اور امریکا کے درمیان مذاکرات کیلئے پاکستان کا کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔

آج پوری دنیا امن کیلئے پاکستان کی قربانیوں اور کاوشوں کو سراہتے ہوئےاظہار تشکر کرتی نظر آتی ہے جو بھارت اور اس کے بغل بچے افغانستان کو کسی طرح ہضم نہیں ہورہی ، دوحہ میں ہونیوالی امن معاہدے کی تاریخی تقریب میں بھی پاکستان کے کردارکا برملا اعتراف کیا گیا جس کے بعد سے افغان صدر اشرف غنی کسی نہ کسی طرح امن معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں تاہم اشرف غنی کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ افغان حکومت امریکا کی مرہون منت ہے اور اشرف غنی کی حماقتیں  پاکستان سے زیادہ خود ان کی حکومت  کیلئے نقصان دہ ثابت ہونگی۔

Related Posts