نیویارک: امریکی سرمایہ کار کمپنی کی جانب سے عائد کیے گئے فراڈ اور اسٹاکس میں ہیر پھیر کے الزامات کے بعد ایشیاء کے امیر ترین شخص گوتم اڈانی 48ارب ڈالر سے محروم ہوگئے۔
بھارت سے تعلق رکھنے والے 60 سالہ گوتم اڈانی رواں ہفتے کے آغاز میں دنیا کے تیسرے امیر ترین شخص تھے لیکن جمعے تک اربوں ڈالر کے نقصان کے بعد وہ فوربز کی ارب پتی افراد کی فہرست میں چار درجے تنزلی کے بعد ساتویں نمبر پر آگئے ہیں۔
خبر ایجنسی روئٹرز کے مطابق اڈانی گروپ کی سات لسٹڈ کمپنیاں جن پر دنیا کے سب سے امیر ترین افراد میں سے ایک گوتم اڈانی کا کنٹرول ہے، بدھ سے اب تک مجموعی طور پر 48 ارب ڈالر کا مارکیٹ کیپٹلائزیشن کھو چکی ہے، اس کے ساتھ ہی اڈانی فرموں کے امریکی بانڈز بھی گر رہے ہیں۔ ہنڈنبرگ ریسرچ نے 24 جنوری کی ایک رپورٹ میں اڈانی گروپ کے قرضوں اور ٹیکس ہیونز کا ذکر کیا تھا جس کے بعد اڈانی گروپ کے حوالے سے خدشات نے جنم لیا تھا۔
ملک میں دالوں کی قلت کا خدشہ، صرف 15 دن کا اسٹاک باقی رہ گیا
رپورٹ کے مطابق بھارت کا کیپٹل مارکیٹس ریگولیٹر ہنڈنبرگ رپورٹ کا مطالعہ کر رہا ہے اور اسے اڈانی گروپ کے آف شور فنڈ ہولڈنگز کی اپنی جاری تحقیقات میں مدد کے لیے استعمال کرسکتا ہے۔ اس حوالے سے بھارتی ریگولیٹر اور اڈانی کے ترجمان نے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
مزید برآں اڈانی گروپ نے ہنڈن برگ کی رپورٹ کو بے بنیاد قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ نیویارک میں قائم فرم کے خلاف قانونی کارروائی کرنے پر غور کر رہا ہے۔ اس نے فوری طور پر ریگولیٹر کے اقدام پر تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








