اثاثے منجمد، بوئنگ طیارے ضبط! ایران کی مدد کرنے والوں کے خلاف امریکہ کا سخت ایکشن

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

امریکہ نے ایرانی ڈرون اور بیلسٹک میزائل پروگرام میں معاونت کرنے کے الزامات کے تحت آٹھ افراد اور چار کمپنیوں پر پابندیاں عائد کر دیں۔

یہ اقدام ایرانی فضائی کمپنی ماہان ایئر کو بھی نشانہ بناتا ہے جس پر پہلے بھی الزام رہا ہے کہ وہ پاسدارانِ انقلاب کے لیے ہتھیار، فوجی اہلکار اور مالی وسائل منتقل کرتی رہی ہے۔ امریکی قانون کے تحت اس ایئرلائن کے دو بوئنگ طیاروں کو منجمد شدہ اثاثہ قرار دے کر قبضے میں لے لیا گیا ہے۔

پابندیوں کی زد میں آنے والے افراد ایرانی شہری ہیں جو مختلف ممالک میں سرگرم ہیں۔ بلیک لسٹ کی گئی چار کمپنیوں میں ایک تجارتی ادارہ، ایک ایئرپورٹ سروسز کمپنی، ایک ایوی ایشن فرم اور ایک ٹیکسٹائل سے متعلق تجارتی کمپنی شامل ہے جن پر الزام ہے کہ یہ ایران کے اسلحہ حاصل کرنے والے نیٹ ورکس سے جڑی ہوئی ہیں۔

ان پابندیوں کے بعد یہ تمام افراد اور ادارے امریکی مالیاتی نظام تک رسائی سے محروم ہو جائیں گے۔ ان کے امریکہ میں موجود کسی بھی اثاثے کو منجمد کر دیا جائے گا اور امریکی شہریوں کو ان کے ساتھ کاروباری لین دین کرنے سے روک دیا جائے گا۔

امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ ایرانی حکومت کو عالمی توانائی منڈیوں میں دباؤ ڈالنے اور میزائلوں و ڈرونز کے ذریعے شہریوں کو نشانہ بنانے جیسے اقدامات کا حساب دینا ہوگا۔ ان کے مطابق صدر ٹرمپ کی قیادت میں اقتصادی دباؤ کی پالیسی کے تحت ٹریژری ایسے نیٹ ورکس اور ان کے سہولت کاروں کو مسلسل نشانہ بنائے گی۔

اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے نائب ترجمان ٹومی پیگٹ نے کہا کہ امریکہ ایران کی خطرناک سرگرمیوں کو بے نقاب کرنے، روکنے اور ان کا مقابلہ کرنے کے لیے دستیاب تمام ذرائع استعمال کرتا رہے گا۔

Related Posts