فلوریڈا: نو ماہ سے زائد عرصے تک بین الاقوامی خلائی اسٹیشن میں پھنسے رہنے کے بعد امریکی خلاباز سنیتا ولیمز اور بوچ ولمور بدھ کی صبح زمین پر واپس پہنچ گئے جہاں وہ امریکی ریاست فلوریڈا کے ساحل کے قریب بحفاظت اترے۔
اسپیس ایکس کے کریو ڈریگن خلائی جہاز نے ان دونوں کے ساتھ امریکی خلاباز نک ہیگ اور روسی خلا نورد الیگزینڈر گوربونوف کو بھی واپس لایا۔ یہ خلائی جہاز زمین کی فضا میں داخل ہونے کے بعد پیراشوٹ کی مدد سے بحفاظت فلوریڈا کے ساحل پر اترا۔
سنیتا ولیمز اور بوچ ولمور گزشتہ سال جون میں بونگ اسٹارلائنر کے ذریعے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر گئے تھے جس کا مقصد صرف چند دن کا تجرباتی مشن تھا تاہم خلائی جہاز میں تکنیکی خرابی اور پروپلشن سسٹم کی ناکامی کے باعث اسے واپس بھیجنا ممکن نہ رہا، جس کے نتیجے میں یہ دونوں خلاباز مہینوں تک خلا میں پھنسے رہے، جبکہ اسٹارلائنر بغیر کسی عملے کے زمین پر واپس بھیجا گیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاملے پر سابق صدر جو بائیڈن انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ سیاسی وجوہات کی بنا پر ان خلابازوں کو خلا میں چھوڑ دیا گیا تھا۔ جنوری میں، صدر ٹرمپ نے ایلون مسک کو اس مشن کو تیز کرنے کی ہدایت دی تھی۔
ایلون مسک نے واپسی کے اس تاریخی لمحے کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے اسپیس ایکس اور ناسا کی ٹیم کو مبارکباد دی، اور صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اس مشن کو اولین ترجیح دی۔
ناسا کے قائم مقام ایڈمنسٹریٹر جینیٹ پیٹرو نے ایک بریفنگ کے دوران کہا کہ صدر ٹرمپ کی ہدایت کے مطابق ناسا اور اسپیس ایکس نے اس مشن کو ایک ماہ قبل مکمل کرنے کے لیے سخت محنت کی۔
انہوں نے مزید کہا، “اس بین الاقوامی عملے اور ہماری ٹیموں نے صدر ٹرمپ کی دی گئی چیلنج کو قبول کیااور اپنی بھرپور تیاری، تخلیقی صلاحیتوں اور عزم کے ذریعے ہم نے ایک شاندار کارنامہ انجام دیا۔ ہم زمین کے نچلے مدار سے چاند اور مریخ تک کے مشن میں نئی سرحدیں عبور کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔”
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








