امریکہ کے سابق سفیر اور افغانستان کے لیے خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد نے ایک بار پھر پاکستان کے بارے میں گمراہ کن معلومات سوشل میڈیا پر پھیلانے کی کوشش کی جس پر سوشل میڈیا صارفین نے سخت ردعمل دیا۔
زلمے خلیل زاد نے ایکس (سابق ٹوئٹر) پر ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ داعش کا ایک سینئر کمانڈر برہان المعروف زید پنجاب کے علاقے اختر آباد میں مارا گیا ہے جس سے صوبے میں داعش کی موجودگی کا پتا چلتا ہے۔
وزارت اطلاعات و نشریات نے اس دعوے کی مکمل طور پر تردید کرتے ہوئے حقیقت سامنے رکھ دی۔ وزارت کے مطابق جس شخص کی تصویر شیئر کی گئی اس کا داعش سے کوئی تعلق نہیں تھا اور نہ ہی وہ کسی آپریشن میں مارا گیا۔
🔎 Fact Check
🟠 Claim:
Zalmay Khalilzad tweet claimed that a senior ISIS-Khorasan commander, Burhan alias Zaid, has been killed in the Pethak area of Akhtarabad in Punjab, Pakistan implying the presence and activity of ISIS-K elements inside the province.✅ Reality:
▪ The… pic.twitter.com/rRsEiGNQvl— Fact Checker MoIB (@FactCheckerMoIB) November 17, 2025
سرکاری حکام نے بتایا کہ برہان 5 مارچ 2025 کو ضلع قصور کے علاقے حبیب آباد میں خاندانی دشمنی یا ڈاکے کے ایک واقعے میں ہلاک ہوا تھا نہ کہ اختر آباد میں جیسا کہ دعویٰ کیا گیا۔
سرکاری وضاحت کے مطابق مقتول کی ایف آئی آر تھانہ صدر پتوکی میں درج کی گئی جس کا ای ٹیگ نمبر SPK-06/03/2025-448 ہے۔ برہان اپنے سسر کے ساتھ حبیب آباد کی نئی سبزی و فروٹ مارکیٹ کے قریب رہتا تھا۔ اس واقعے کا دہشت گردی یا کسی تنظیم سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوا۔
وزارت اطلاعات نے واضح کیا کہ زلمے خلیل زاد کا بیان جھوٹا اور گمراہ کن ہے جس کے ذریعے ایک عام جرائم کے کیس کو دہشت گردی کا رنگ دینے کی کوشش کی گئی۔سکیورٹی اداروں کے مطابق پنجاب میں داعش یا داعش خراسان کے عناصر کی کوئی موجودگی نہیں ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








