پیٹرول اور ڈیزل کی خریداری سے پرہیز کریں ورنہ! اوگرا نے اہم حکم نامہ جاری کردیا

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے واضح کیا ہے کہ پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات یعنی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر ایندھن کے ذخائر موجودہ صورتحال میں قومی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے مکمل طور پر کافی ہیں۔

حالیہ مشرق وسطیٰ کی کشیدگی اور آبنائے ہرمز سے متعلق خدشات کے باعث سوشل میڈیا پر پھیلنے والی افواہوں پر ردعمل دیتے ہوئے اوگرا نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر ایندھن کی بڑی مقدار خریدنے یا گھروں میں ذخیرہ کرنے سے گریز کریں۔ ایسا کرنے سے مصنوعی قلت پیدا ہو سکتی ہے۔

اوگرا حکام نے بتایا کہ ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ صرف لائسنس یافتہ آئل ڈپو اور ریٹیل آؤٹ لیٹس (پیٹرول پمپس) ہی قانونی طور پر پیٹرولیم مصنوعات رکھ سکتے ہیں۔ غیر مجاز جگہوں پر ایندھن ذخیرہ کرنے والوں کے خلاف فوری ایکشن لیا جائے گا مقامات سیل کیے جائیں گے اور قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

صوبائی چیف سیکریٹریز کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ڈپٹی کمشنرز اور متعلقہ افسران کو متحرک کریں تاکہ مارکیٹ کی نگرانی سخت کی جائے اور غیر قانونی سرگرمیاں روکی جائیں۔

دوسری جانب پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے رہنما سمیر حسین نے کہا ہے کہ کچھ تیل کمپنیاں اب پمپس کو مرضی کے مطابق سپلائی نہیں دے رہی ہیں بلکہ گزشتہ ماہ کی اوسط فروخت کے حساب سے تیل فراہم کر رہی ہیں۔ کچھ کمپنیاں پچھلے 6 ماہ کی اوسط پر عمل کر رہی ہیں جبکہ پی ایس او سے منسلک پمپس کو فروری کی اوسط سیل کے مطابق سپلائی مل رہی ہے۔

ماہرین توانائی کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز میں ممکنہ رکاوٹوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کمپنیوں کی یہ حکمت عملی مناسب ہے تاکہ ذخائر کو محفوظ رکھا جا سکے اور غیر ضروری دباؤ سے بچا جا سکے۔

حکام کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے اور روزانہ کی بنیاد پر مانیٹرنگ کی جا رہی ہے۔ شہریوں کو مشورہ ہے کہ وہ صرف ضروری مقدار میں ایندھن خریدیں اور سرکاری ذرائع سے ہی تازہ معلومات حاصل کریں تاکہ افواہوں کا شکار نہ ہوں۔

Related Posts