کراچی میں چوری کے الزام میں گرفتار گھریلو ملازمہ ماضی میں ایوارڈ یافتہ نکلی

تازہ ترین

تازہ ترین

Award-winning housemaid arrested for theft in Karachi
FILE PHOTO

کراچی: گھریلو چوری کے الزام میں گرفتار ہونے والی خاتون ملازمہ کے بارے میں حیران کن انکشاف سامنے آیا ہے کہ ملزمہ ماضی میں وزیراعظم کے ہاتھوں ایوارڈ یافتہ رہ چکی ہے۔

ڈیفنس پولیس کے مطابق گرفتار خاتون ملازمہ گھر کے افراد کو نشہ آور چائے پلا کر بے ہوش کرتی اور قیمتی سامان لوٹ کر فرار ہو جاتی اور ان وارداتوں سے کروڑ پتی بن چکی ہے۔

پولیس حکام کے مطابق گرفتار خاتون کی شناخت فرزانہ کوثر عرف مہرین کے نام سے ہوئی ہے جس نے کراچی کے ایک بنگلے سے 65 لاکھ روپے مالیت کے زیورات چوری کیے اور شہر چھوڑ کر فرار ہوگئی تھی۔ چند روز قبل فیروزآباد پولیس نے اسے چوری کے ایک علیحدہ مقدمے میں گرفتار کیا۔

تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ ملزمہ نے متاثرہ خاندان کو سبز چائے میں نشہ آور دوا ملا کر بے ہوش کیا اور پھر گھر سے سونا، نقدی اور قیمتی اشیاء لوٹ کر لے گئی۔ تفتیش کے دوران کئی اہم انکشافات بھی سامنے آئے ہیں۔

پولیس کے مطابق مہرین ماضی میں اسلام آباد کی جیل میں تین سال کی سزا کاٹ چکی ہے جہاں دورانِ قید اس نے سلائی کا کام سیکھا اور اس کی مہارت پر اُس وقت کے وزیراعظم عمران خان نے اسے ایوارڈ سے نوازا تھا۔

ملزمہ نے مزید انکشاف کیا کہ اس کا تعلق فیصل آباد سے ہے اور اس کے خلاف لاہور میں بھی متعدد مقدمات درج ہیں۔

دسمبر 2024 میں ڈیفنس پولیس اسٹیشن میں شوکت محمود نامی شہری نے اس کے خلاف مقدمہ درج کروایا تھاجس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ مہرین نے گھر کے افراد کو نشہ آور چائے پلائی، سونا، نقدی اور دیگر قیمتی اشیاء لوٹیں اور فرار ہوگئی۔

تحقیقاتی افسران کے مطابق چوری کی کل مالیت 65 لاکھ روپے سے تجاوز کر چکی ہے۔

اگرچہ حالیہ دنوں میں فیروزآباد پولیس نے مہرین کو ایک اور چوری کے مقدمے میں گرفتار کیا تھاتاہم جب متاثرین کو اس کی گرفتاری کی خبر ملی تو انہوں نے اسے شناخت کر لیا جس کے بعد ڈیفنس پولیس نے بھی اسے اپنے مقدمے میں نامزد کر لیا۔

مزید انکشافات کے مطابق ملزمہ فیروزآباد تھانے میں چوری کے تین مقدمات میں گرفتار ہے جبکہ اس نے کلفٹن اور گزری کے علاقوں میں بھی لاکھوں روپے مالیت کی وارداتیں کی ہیں۔

Related Posts