اسلام آباد: ایف 7 کے علاقے میں کئی دہائیوں سے افغان کھانوں کا نمایاں مرکز رہنے والا معروف کابل ریسٹورنٹ اس وقت خبروں کی زینت بن گیا جب کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے حکومتی ڈیجیٹل پاکستان منصوبے کے تحت جاری کردہ نئی کیش لیس ادائیگی پالیسی کی خلاف ورزی پر اس کا اوپن ایئر ڈائننگ ایریا سیل کر دیا۔
یہ واقعہ اس وقت توجہ کا مرکز بنا جب ایک مقامی شہری نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو اور پوسٹ کے ذریعے الزام عائد کیا کہ ریسٹورنٹ ڈیجیٹل ادائیگیاں قبول کرنے سے انکار کر رہا ہے جس سے ممکنہ ٹیکس چوری کا شبہ پیدا ہوتا ہے۔
پوسٹ وائرل ہوتے ہی مختلف پلیٹ فارمز پر بحث چھڑ گئی اور عوامی ردعمل نے سی ڈی اے کو فوری ایکشن پر مجبور کر دیا۔
سی ڈی اے کے چیئرمین اور چیف کمشنر محمد علی رندھاوا نے فوری نوٹس لیتے ہوئے ریسٹورنٹ کی اوپن ایئر سیٹنگ کی منظوری منسوخ کر دی اور کہا کہ ادارہ کیش لیس پالیسی پر عمل درآمد میں ناکام رہا۔
اس اقدام کو وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کام شزا فاطمہ خواجہ نے بھی سراہا اور ایکس پر چیئرمین رندھاوا کے بیان کو ری ٹویٹ کرتے ہوئے حکومت کی ڈیجیٹل پالیسی پر عملدرآمد کی تعریف کی۔
عوامی توجہ کے عین وسط میں جے ایس بینک کے تحت کام کرنے والا زندگی ایک مرتبہ پھر کیش لیس اسلام آباد وژن کو آگے بڑھانے میں اپنی قیادت ثابت کرنے میں کامیاب ہوا۔
زندگی نے راست پیمنٹ سلوشن کے ذریعے نہ صرف فوری بلکہ محفوظ اور شفاف ٹرانزیکشنز کو ممکن بنایا بلکہ شہریوں کے لیے کیش لیس ٹرانزیکشنز کو حقیقت میں تبدیل کر دیا۔
سوشل میڈیا صارفین نے بھی اس تیز رفتار ردعمل کو سراہا، خاص طور پر زندگی، سی ڈی اے چیئرمین و چیف کمشنر محمد علی رندھاوا اور چیف میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد کی ڈاکٹر انعم فاطمہ کی تعریف کی، جنہوں نے بروقت فیصلے اور فعال گورننس کے ذریعے کیش لیس اکانومی وژن کو مضبوط بنیاد فراہم کی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








