پی ٹی آئی پر پابندی، ماہرین قانون کیا کہتے ہیں؟

تازہ ترین

تازہ ترین

فوٹو یاہو نیوز

ماہرین قانون نے پی ٹی آئی پر پابندی لگانے کے وفاقی حکومت کے فیصلے پر رد عمل دیتے ہوئے اپنی قانونی رائے کا اظہار کیا ہے۔

ماہر قانون اعتزاز احسن نے ایک انٹرویومیں بتایا کہ یہ ایک مذاق ہے، کوئی انہیں مس لیڈ کر رہا ہے، اس کا دفاع کیا ہوگا، بدنیتی پر یہ ریفرنس فائل کیا گیا ہے، یہ اس لیے کر رہے ہیں کہ اس جماعت کا لیڈر ہر کیس میں بری ہو رہا ہے، ان کو کچھ اور نہیں ملا تو اس طرف چل پڑے، یہ فارم 45 کی جو نمود ہے اس سے یہ بھاگنا چاہتے ہیں، فارم 45 ان کے گلے میں گھنٹے کی طرح بندھی ہوئی ہے۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے بتایا کہ ابھی ہم اس معاملے پر پی پی سے بات کریں گے تو پیپلز پارٹی ان کو مشورہ دے گی، یہ لوگ جال میں پھنس رہے ہیں، اس پریس کانفرنس کی ایک دو دن میں (ن) لیگ کے وزرا تردید کردیں گے، ان کے پاس وکیل تو اچھے ہیں لیکن سمجھ نہیں آرہا ہے کہ ان کو ہوا کیا ہے۔

جے یو آئی کے سینیٹر اور ماہر قانون کامران مرتضی نے کہا کہ کسی بھی سیاسی جماعت کو بنانا اور اس کا برقرار رہنا ایک بنیادی حق ہے، جس طرح حکومت سمجھ رہی ہے اس طرح نہ کسی پر آرٹیکل سکس کا استعمال ہوسکتا ہے اور نہ کسی جماعت پر پابندی لگ سکتی ہے، یہ ادھار مانگ کر شرمندہ ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت جن کو ثبوت کہہ رہی ہے، مجھے اس کا علم نہیں کہ وہ ثبوت ہیں یا نہیں، اور جس کو ثبوت کہا جارہا ہے ان کی بنیاد پر گزشتہ 14 ماہ میں کوئی سزا نہیں ہوئی، فرض کرلیں اگر کوئی ثبوت ہے تو وہ کسی کی پراپرٹی پر حملہ کرنے سے متعلق ہوں گے یا پھر فورسز کے کام میں مداخلت سے متعلق ہوں گے، لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ کسی پر آرٹیکل سکس لگا دیا جائے یا کسی جماعت پر پابندی لگادی جائے۔

بیرسٹر علی طفر نے بتایا کہ وفاقی وزیر نے آرٹیکل 6 کے حوالے سے بات کی تو شاید وہ لوگ قانون نہیں پڑھتے، آرٹیکل 6 غداری کا جرم ہے، وہ ایک مختلف قسم کا جرم ہے، صرف قانون کی خلاف ورزی کرنا غداری  نہیں۔ انہوں نے کہاکہ اگر ایسے ہی غداری کے مقدمے لگے تو پھر تو پارلیمنٹیرینز کے خلاف بھی غداری کے مقدمے ہوں گے، آرٹیکل 6 کا کوئی مقدمہ نہیں بن سکتا، وہ مقدمہ اتنا بے بنیاد ہوگا کہ وہ چل ہی نہیں سکے گا۔

Related Posts