وفاقی کابینہ نے بالآخر تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) پر پابندی لگانے کا اعلان کر دیا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت منعقد ہونے والے کابینہ کے اجلاس میں یہ منظوری دی گئی جس میں وزارت داخلہ کو اس کی قانونی کارروائی شروع کرنے کے احکامات بھی جاری کیے گئے۔ یہ قدم ملک کی سلامتی اور عوامی امن کو برقرار رکھنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
پس منظر اور صوبائی سطح کا اقدام
تحریک لبیک پر پابندی کا یہ فیصلہ اچانک نہیں کیا گیا بلکہ تقریباً ایک ہفتہ پہلے پنجاب کی صوبائی کابینہ نے بھی ٹی ایل پی پر پابندی کی تجویز منظور کی تھی اور اس کی تفصیلی سمری وفاقی حکومت کو بھیج دی تھی۔
پنجاب حکومت نے حالیہ مظاہروں میں ہونے والے تشدد اور امن و امان کی صورتحال کو بنیاد بنایا، جو غزہ کی حمایت کے نام پر شروع ہوئے تھے۔ صوبائی اطلاعات وزیر اعظمہ بخاری نے اس موقع پر واضح کیا کہ مذہب کے نام پر تشدد کو برداشت نہیں کیا جائے گا خاص طور پر جب دنیا غزہ میں جنگ بندی کی حمایت کر رہی ہو۔
وفاقی سطح پر وزارت داخلہ نے کابینہ کو پیش کی گئی سمری میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 11 بی (1) کے تحت پابندی کی سفارش کی تھی۔ اس سمری میں ٹی ایل پی کی سرگرمیوں کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا گیا، جو فرقہ وارانہ نفرت، تشدد اور بین الاقوامی تعلقات کو نقصان پہنچانے کا باعث بن رہی ہیں۔
ٹی ایل پی کی سرگرمیوں پر الزامات
کابینہ کی سمری اور پولیس کی رپورٹس میں ٹی ایل پی پر سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ 2016 سے 2025 تک کے عرصے میں اس جماعت کے مظاہروں کے دوران بڑے پیمانے پر تشدد ہوا جس کی تفصیلات پنجاب پولیس نے جاری کی ہیں۔ ان میں شامل ہیں:
نفرت انگیز اور فرقہ وارانہ تقریریں: ٹی ایل پی کو فرقہ وارانہ انتہا پسندی کو فروغ دینے والا قرار دیا گیا، جو اقلیتوں کے خلاف نفرت پھیلاتی ہے۔
عوامی اور سرکاری املاک کو نقصان: مظاہروں میں نجی اور سرکاری عمارتوں، گاڑیوں سمیت کروڑوں روپے کی تباہی کی گئی۔
ہجوم کی بنیاد پر تشدد: جماعت کے کارکن ہجوم کی شکل میں پولیس پر حملے کرتے رہے، جس سے متعدد اہلکار شدید زخمی ہوئے اور کچھ عمر بھر کے لیے معذور ہو گئے۔
خاص واقعات: محرم الحرام کے دوران شیخوپورہ اور میانوالی میں فرقہ وارانہ جھڑپوں میں 70 افراد زخمی اور 5 جاں بحق ہوئے۔ حالیہ مظاہروں میں 6 شہری زخمی ہوئے، ایک پولیس اہلکار شہید ہوا، اور مجموعی طور پر 47 پولیس اہلکار متاثر ہوئے۔
دیگر سرگرمیاں: ٹی ایل پی پر ہتھیار سازی، بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی ساکھ کو نقصان اور ریاست کے خلاف مسلح مزاحمت کے الزامات بھی لگائے گئے ہیں۔
ان سب وجوہات کی بنا پر کابینہ نے ٹی ایل پی کو ممنوعہ تنظیم قرار دینے کا فیصلہ کیا، جو اب قانونی مراحل سے گزرے گا۔ اس اقدام سے متوقع ہے کہ ملک میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہوگی اور انتہا پسندی کو روکنے میں مدد ملے گی تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صرف پابندی کافی نہیں بلکہ اس کی بنیاد بننے والی سوچ کو بھی چیلنج کرنا ضروری ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








