بنگلا دیش: حسینہ واجد کیخلاف عوام سڑکوں پر نکل آئے، استعفے کا مطالبہ

تازہ ترین

تازہ ترین

بنگلا دیش کی وزیر اعظم حسینہ واجد کے خلاف عوام سڑکوں پر آگئے، لاکھوں لوگوں نے وزیر اعظم سے فوری حکومت چھوڑنے کا مطالبہ کر دیا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سنیچر کو دو اپوزیشن جماعتوں بنگلہ دیش نیشنل پارٹی (بی این پی) اور جماعت اسلامی (جے آئی) نے حکومت مخالف ریلی نکالی اور شیخ حسینہ واجد سے حکومت چھوڑنے کا مطالبہ کردیا۔

بنگلا دیش میں آئندہ سال جنوری کے پہلے ہفتے میں عام انتخابات ہونے ہیں۔ ملک کے بانی شیخ مجیب الرحمان کی بیٹی شیخ حسینہ واجد گزشتہ 15 سال سے اقتدار میں ہیں۔ ان کے دور میں اقتصادی ترقی کی رفتار تیز رہی اور مجموعی شرح میں بنگلا دیش نے انڈیا کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔

لیکن اسی دوران مہنگائی میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا اور ان کی حکومت پر بدعنوانی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات بھی عائد کیے گئے۔

اسرائیل پاگل پن کو روکے، طیب اردوان

 اپوزیشن جماعتیں اپنے مطالبات منوانے کے لیے کئی ماہ سے سراپا احتجاج ہیں جبکہ بنگلا دیش نیشل پارٹی کی قائد اور دو مرتبہ وزیراعظم رہنے والی خالدہ ضیاء بدعنوانی کے الزامات پر گھر میں نظربند ہیں۔

دیگر شہروں سے آئے ہوئے خالدہ ضیاء کے حامی پولیس رکاوٹوں کے باوجود بڑی تعداد میں ریلی میں شریک ہوئے اور ’ووٹ چور، ووٹ چور، شیخ حسینہ ووٹ چور‘ کے نعرے لگائے۔

ریلی میں شریک چٹاگانگ سے آنے والے طالب علم سکندر بادشاہ نے کہا کہ ہم حسینہ حکومت کے فوری مستعفی ہونے، ہماری لیڈر خالدہ ضیاء کی رہائی اور عوام کے ووٹ دینے کے حق کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق پرتشدد واقعات کو روکنے کے لیے دس ہزار اہلکار تعینات کیے گئے ہیں تاہم ڈھاکا کے علاقے ککریل میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپ ہوئی اور آنسو گیس کے علاوہ ربڑ کی گولیاں بھی استعمال کی گئیں۔

Related Posts