ڈھاکہ: بنگلہ دیش میں پر تشدد مظاہروں کے دوران 133افراد کی ہلاکت کے بعد سپریم کورٹ نے سرکاری ملازمتوں میں کوٹے پر بھرتی سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا ہے۔
نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق بنگلہ دیشی سپریم کورٹ نے کوٹے پر بھرتی کے متعلق ہائی کورٹ کے حکم پر عملدرآمد روک دیا۔ مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ عدالت میں کوٹا سسٹم کی بحالی کے خلاف سماعت میں عدالت نے ہائیکورٹ کے فیصلے پر عمل سے روکا۔
گزشتہ ماہ ہائیکورٹ نے بنگلہ دیش میں سرکاری ملازمتوں میں کوٹہ سسٹم کو بحال کردیا تھا۔ دوسری جانب بنگلہ دیشی حکومت نے احتجاج اور پر تشدد مظاہرے روکنے کیلئے عائد کیے گئے کرفیو میں آج دوپہر تک توسیع کردی۔
بنگلہ دیشی دارالحکومت ڈھاکہ کی شاہراہوں پر سکیورٹی اہلکار گشت کر رہے ہیں، پر تشدد مظاہروں میں ہلاک ہونے والے 133 افراد میں 2 پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ احتجاج کے دوران ہزاروں مظاہرین اور 150 پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔
حکومت نے انٹرنیٹ، موبائل مسیج اور اوور سیز کال سروسز جمعرات سے معطل کر رکھی ہیں جبکہ تعلیمی ادارے اور دفاتر بھی ملک گیر احتجاج کے باعث بند ہیں۔ بنگلہ دیش کے طلبہ نے کوٹہ سسٹم کے خلاف جو احتجاج شروع کیا تھا، اس میں والدین اور دیگر لوگ بھی شامل ہوچکے ہیں۔
گزشتہ کئی روز سے جاری احتجاج میں طلبہ نے پولیس اور حکمراں جماعت عوامی لیگ کے طلبہ ونگ سے جھڑپیں کیں۔ تشویشناک طور پر بنگلہ دیش کی 56فیصد سرکاری ملازمتیں کوٹے میں دے دی جاتی ہیں جن میں جنگ1971 لڑنے والوں، خواتین اور مخصوص اضلاع کے کوٹے شامل ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








