ٹائیفائیڈ ویکسین کے کیا فوائد ہیں؟ کون لگوا سکتا ہے اور کیوں؟

تازہ ترین

تازہ ترین

ٹائیفائیڈ ویکسین
(فوٹو: آن لائن)

ٹائیفائیڈ ویکسین سالمونیلا ٹائیفی نامی بیکٹیریا کے باعث لگنے والے بخار ٹائیفائیڈ سے بچاؤ کیلئے لگائی جاتی ہے جبکہ یہ بخار گندے پانی اور خوراک سے پھیلتا ہے اور صاف پانی کی فراہمی کراچی سمیت ملک کے بہت سے شہروں کا مسئلہ بن چکی ہے۔

ٹائیفائیڈ کے دوران تیز بخار، پیٹ اور سر میں درد اور اسہال کے باعث مریض کا برا حال ہوجاتا ہے جس سے بچاؤ کیلئے ویکسین کا استعمال کیا جاتا ہے۔ زیر نظر مضمون میں ویکسین کے متعلق حقائق اور اہم سوالوں کے جوابات دئیے جائیں گے۔

ٹائیفائیڈ کے خطرات

ایسے لوگ جو صاف ستھرے مقامات پر نہیں رہتے، ٹائیفائیڈ سے متاثرہ علاقوں میں بسنے یا گزرنے والے لوگ، ٹائیفائیڈ کا شکار افراد کے ساتھ قریبی رابطے میں رہنے والے اور دیگر کو ٹائیفائیڈ ہوسکتا ہے جو انتہائی تکلیف کا باعث اور جان لیوا بھی ہوسکتا ہے۔

ویکسین کے فوائد

اگر ٹائیفائیڈ کی ویکسین لگوا لی جائے تو یہ بخار سے بچاتی ہے اور سالمونیلا ٹائیفی نامی بیماری کا سبب بننے والے وائرس کیلئے مدافعتی عمل کو متحرک کرتی ہے۔ یوں ویکسین لگوانے والے لوگ مہلک بیماری سے محفوظ رہتے ہیں۔

بعض ویکسینز کے ذریعے ٹائیفائیڈ سے دیرپا، کئی سال تک یا زندگی بھر کا تحفظ حاصل کیا جاسکتا ہے اور بخار کے خلاف جسم میں قوتِ مدافعت پیدا اور مضبوط ہوتی ہے۔ ویکسین استعمال کرنے سے مرض کے پھیلاؤ کی روک تھام بھی ممکن بنائی جاسکتی ہے۔

ویکسین کسے لگوانی چاہئے؟

جن علاقوں میں ٹائیفائیڈ بخار پھیل چکا ہوں، یا ایسے ترقی پذیر یا پسماندہ علاقے جہاں صفائی کا نظام ناقص ہو، ، وہاں جاتے ہوئے ویکسین لگوائیں۔ پیشہ ور لوگ جو صحت کی دیکھ بھال جیسے کام کرتے ہیں۔ مریضوں کی حفاظت کیلئے ویکسینیشن انتہائی ضروری ہے۔ ‘

اگر کسی شخص کو ٹائیفائیڈ کا بخار ہوچکا ہے تو اس کے قریبی افراد کو ویکسین لگوانی چاہئے اور ایسے سکیورٹی فورسز کے اہلکار بھی ویکسین لگوانے پر غور کریں جنہیں ٹائیفائیڈ سے متاثرہ علاقوں میں ڈیوٹی کرنا ہوتی ہے۔

ٹائیفائیڈ ویکسین پر اہم سوال و جواب:

سوال: ٹائیفائیڈ ویکسین کیا ہے؟
جواب: ٹائیفائیڈ ویکسین سالمونیلا ٹائیفی بیکٹیریا سے لگنے والے بخار ٹائیفائیڈ سے بچاؤ کے لیے ہوتی ہے۔

سوال: ٹائیفائیڈ کیسے پھیلتا ہے؟
جواب: ٹائیفائیڈ گندے پانی اور خوراک سے پھیلتا ہے، بعض اوقات جنک فوڈ بھی ٹائیفائیڈ کے پھیلاؤ کا ذریعہ ہوسکتا ہے۔

سوال: ٹائیفائیڈ کی علامات کیا ہیں؟
جواب: ٹائیفائیڈ کے دوران تیز بخار، پیٹ اور سر میں درد اور اسہال کی علامات ہوتی ہیں۔

سوال: ویکسین کس کس کو لگوانی چاہئے؟
جواب: ٹائیفائیڈ کے متاثرہ علاقوں میں رہنے والے لوگ، سفر کرنے والے، اور صحت کی دیکھ بھال کرنے والے لوگوں کو ویکسین لگوانی چاہئے۔

سوال: کیا ویکسین کے کوئی نقصانات ہیں؟
جواب: ویکسین عموماً محفوظ ہوتی ہے، مگر کچھ لوگوں کو ویکسین لگوانے کے بعد خفیف بخار یا درد محسوس ہوسکتا ہے۔

سوال: ویکسین کے کتنے اثرات ہوتے ہیں؟
جواب: ویکسین لگانے کے بعد معمولی بخار یا درد ہوسکتا ہے، مگر زیادہ تر لوگ بغیر کسی مسئلے کے اسے برداشت کر لیتے ہیں۔

سوال: ویکسین لگوانے کی عمر کیا ہونی چاہئے؟
جواب: ٹائیفائیڈ ویکسین کو عموماً بچوں اور بڑوں دونوں کے لیے تجویز کیا جاتا ہے۔

سوال: کیا ویکسین لگوانے کے بعد بھی ٹائیفائیڈ ہوسکتا ہے؟
جواب: ہاں، ویکسین لگوانے کے بعد بھی ٹائیفائیڈ ہوسکتا ہے مگر ویکسین کا بنیادی مقصد ہوتا ہے کہ مریض بیماری سے بچے۔

سوال: ویکسین کی مدت کتنی ہوتی ہے؟
جواب: ویکسین کی مدت عموماً 10 سال ہوتی ہے، لیکن اس کی مدت مختلف بھی ہوسکتی ہے۔

سوال: کیا ویکسین کے بعد بھی بخار کا خدشہ رہتا ہے؟
جواب: ویکسین لگانے کے بعد بھی بخار کا خدشہ موجود رہتا ہے، مگر ویکسین بخار کے خطرات کو کم کرتی ہے۔

سوال: ویکسین کتنی موثر ہے؟
جواب: ویکسین بہت موثر ہوتی ہے، اور زیادہ تر لوگوں کو بخار سے بچاتی ہے۔

Related Posts