امریکا کے صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ ایران اسرائیل پر جلد حملہ کرسکتا ہے تاہم تہران کو خبردار کیا کہ کشیدگی بڑھانے سے باز رہے۔
جوبائیڈن کا کہنا ہےکہ ایران کا اسرائیل پر حملہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کو نمایاں طور پر بڑھا دے گا، جس سے واشنگٹن اور اس کے اتحادیوں کی غزہ کے ساتھ اسرائیل کے تنازعے کو ایک وسیع علاقائی بحران میں بدلنے سے روکنے کی کوششوں کو خطرہ لاحق ہو گا۔
غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت جس کا آغاز اکتوبر میں ہوا تھا، اس میں 33000 سے زیادہ جانیں جاچکی ہیں اور تناؤ نے فلسطینیوں کے علاقے غزہ کو تباہی سے دوچار کر دیا ہے۔
جب نامہ نگاروں کی جانب سے ایران کو ان کے پیغام کے حوالے سے سوال کیا گیا تو صدر بائیڈن نے سختی سے جواب دیا، “نہیں”۔ انہوں نے اسرائیل کے دفاع کے لیے امریکا کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا اور کسی بھی ایرانی جارحیت کے خلاف قوم کی حفاظت کے لیے حمایت اور مدد کی تصدیق کی۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل دمشق میں ایرانی قونصل خانے پر حالیہ حملے کے بعد ممکنہ جوابی کارروائی کے لیے تیار ہے، مغربی دارالحکومتوں نے خطے کی نازک صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے، جس میں قابو سے باہر ہونے کا خدشہ ہے۔
تل ابیب یکم اپریل کے حملے سے پیدا ہونے والی کسی بھی انتقامی کارروائی کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے جس کے نتیجے میں بریگیڈیئر جنرل محمد رضا زاہدی اور چھ دیگر ایرانی افسران ہلاک ہوئے تھے، حالانکہ اسرائیل نے اس میں ملوث ہونے کی نہ تو تصدیق کی ہے اور نہ ہی تردید کی ہے۔ تہران نے بدلے میں جوابی کارروائی کا عزم ظاہر کیا ہے۔
صدر بائیڈن نے خفیہ معلومات کو ظاہر کرنے سے گریز کیا لیکن ایرانی حملے کے “بجائے جلدی” ہونے کے امکان کا اشارہ دیا۔
بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان ایران کے سپریم لیڈر، آیت اللہ علی خامنہ ای نے زور دے کر کہا کہ اسرائیل کو “سزا ملنی چاہیے ۔
صدر بائیڈن کے قومی سلامتی کے مشیر جان کربی نے اس بات پر زور دیا کہ تہران کی دھمکی کے جواب میں امریکہ خطے میں اپنی فوجی پوزیشن کا از سر نو جائزہ لے رہا ہے اور پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








