بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں بڑی تبدیلی! مستحقین کو رقم نئے ڈیجیٹل نظام سے ملے گی

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ اے آئی)

وفاقی حکومت نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) نے مستحق خاندانوں کے لیے ایک اہم اور جدید نظام متعارف کرواتے ہوئے مالی ادائیگیوں کے طریقہ کار میں بڑی تبدیلی کا اعلان کیا ہے۔ اس نئے فیصلے کے تحت آئندہ اقساط اب روایتی طریقوں کے بجائے ڈیجیٹل والٹ اکاؤنٹس کے ذریعے فراہم کی جائیں گی جسے ایک انقلابی قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

سرکاری اعلامیے کے مطابق یہ اقدام صدر آصف علی زرداری کی خصوصی ہدایات اور وزیراعظم شہباز شریف کے اس وژن کے مطابق شروع کیا گیا ہے جسکا مقصد ملک میں کیش لیس معیشت کو فروغ دینا ہے۔ اس نظام کے تحت آئندہ اقساط صرف اسی ڈیجیٹل والٹ کے ذریعے جاری ہوں گی جو مخصوص بی آئی ایس پی سم کے ذریعے کھولا جائے گا۔

نئے طریقہ کار کے مطابق تمام مستحق خواتین اور خاندانوں کو ادائیگیاں براہِ راست ان کے ڈیجیٹل اکاؤنٹس میں منتقل کی جائیں گی جس کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ اپنی فراہم کردہ موبائل سم کو فعال رکھیں اور اسے والٹ سسٹم سے منسلک کریں۔

بی آئی ایس پی نے ان تمام افراد سے اپیل کی ہے جنہوں نے اب تک اپنی مفت سم حاصل نہیں کی وہ فوری طور پر قریبی پروگرام دفتر سے رابطہ کریں اور اپنا اصل موبائل فون ساتھ لے کر جائیں تاکہ رجسٹریشن کا عمل مکمل کیا جا سکے۔

پروگرام کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ مفت بی آئی ایس پی موبائل سم حاصل کرنے کی آخری تاریخ 15 جون 2026 مقرر کی گئی ہے جس کے بعد اس سہولت کے حصول میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔

مزید بتایا گیا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد قطاروں میں کمی لانا، ادائیگی کے وقت کو کم کرنا اور شفافیت کے نظام کو بہتر بنانا ہے تاکہ مستحقین کو بغیر کسی رکاوٹ کے سہولت فراہم کی جا سکے۔

اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس نئے نظام سے خواتین کی مالی شمولیت اور بااختیاری میں اضافہ ہوگا جس سے وہ براہِ راست اپنی مالی معاونت تک رسائی حاصل کر سکیں گی۔

بی آئی ایس پی کے مطابق آئندہ قسط جون 2026 میں عیدالاضحیٰ کے بعد ملک بھر کے اہل مستحقین میں تقسیم کیے جانے کا امکان ہے جبکہ لاکھوں خاندان ادائیگیوں کی تاریخ، شناختی کارڈ کی تصدیق اور رقم نکالنے کے طریقہ کار سے متعلق معلومات کے منتظر ہیں۔

ذرائع کے مطابق پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا، بلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر میں عید سے قبل بینکنگ شیڈول، بائیومیٹرک تصدیق کے مسائل اور مرحلہ وار ادائیگیوں کے باعث وقتی تاخیر بھی دیکھنے میں آئی تھی۔

Related Posts