بھارتی پالیمنٹ کی لوک سبھا (ایوانِ زیریں) میں دفتری اوقات کے بعد دفتر سے فون کال اور ای میل نظر انداز کرنے کا حق دینے کیلئے بل پیش کردیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق یہ بل آج سے 2 روز قبل جمعہ کو رکن اسمبلی سپریا سولے نے رائٹ ٹو ڈس کنیکٹ بل کے نام سے پیش کیا۔ بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ بل کے تحت قرار دیا گیا کہ ہر ملازم دفتری اوقات کے بعد نہ دفتر کی فون کال اور نہ ہی ای میل رسیو کرنے کا حق رکھتا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان اور بھارت سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں ملازمین کو دفتری اوقات کے بعد بھی فون کالز کرکے مختلف کاموں میں مصروف رکھا جاتا ہے۔ بے شمار ملازمین گھر آمد کے بعد بھی گھر سے زیادہ دفاتر کی وفاداری میں مصروف رہتے ہیں جن سے ان کی گھریلو زندگی متأثر ہوتی ہے۔
بل پیش کیے جانے کے بعد بھارتی میڈیا پر تجزیہ کاروں کی رائے یہ ہے کہ یہ بل اس لحاظ سے خوش آئند ہے کہ دفتری اوقات کے بعد بھی جو ملازمین دفتر کے کاموں میں مصروف رہتے ہیں، وہ اگلے روز آفس جانے میں دیگر ملازمین کے مقابلے میں زیادہ سست روی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پائے گئے ہیں۔
تجزیہ کاروں نے اس تأثر سے بھی اتفاق کیا ہے کہ بل کی منظوری کی صورت میں بھی بھارتی دفاتر کے سربراہان اور دیگر عملہ ماتحت ملازمین کو فون کالز سے باز نہیں آئے گا، اس لیے سخت قانون سازی اور عملدرآمد کی ضرورت ہے، جس کے نتیجے میں ملازمین کو ذہنی تحفظ دیا جاسکے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








